Quran Pak Ki Ahmiyat

Book Name:Quran Pak Ki Ahmiyat

ماں بیٹوں کى تلاوت کا معمول

حضرت على بن صالح  رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  اور حضرت  حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  یہ دونوں بھائی تھے۔ ان کے گھر میں روزانہ رات میں ایک ختمِ قرآن کیا جاتا۔قرآنِ پاک کا ایک تہائی حصہ حضرت علی بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  تلاوت کرتے، دوسرا تہائی حصہ ان کے بھائی حضرت حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ تلاوت کرتے، جبکہ تیسرا اور آخری حصہ ان کی والدہ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہا تلاوت کرتی تھیں۔ یوں ان کے گھر میں روزانہ ایک ختم ِقرآن ہوتا۔ کچھ عرصے بعد ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ اس کےبعد یہ دونوں مل کر آدھا،آدھا قرآن تلاوت کرتے اور ختمِ قرآن کرتے تھے۔ پھرحضرت علی بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا بھی انتقال ہوگیا تو حضرت حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ہر رات اکیلے مکمل ختم ِقرآن فرماتے تھے ۔  

                             حضرت حسن بن صالح کہتے ہیں:جس رات حضرت علی بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا  انتقال ہوا تھا،انہوں نے مجھے کہا: بھائی! مجھے پانی پلاؤ۔ اس وقت میں نماز میں مشغول تھا، سلام پھیر  کر میں نے پانی بھرا،ان کے پاس لے کر گیا اور کہا: پانی پی لیجئے۔ تو حضرت علی بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہنے لگے: مىں نے ابھى ابھى پانى پى لىا ہے۔ میں نے حیران ہو کر کہا: آپ کو کس نے پانی پلایا؟ حالانکہ کمرے میں تو میرے اور آپ کے سوا کوئی تیسرا ہے ہی نہیں!،یہ سُن کر حضرت علی بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرمانے لگے:اللہ پاک کی رحمت سے ابھی ابھی حضرت جبرىل عَلَیْہِ السَّلَام پانى لے کر آئے،انہوں نے مجھے سیراب کیا اور مجھے یہ بھی فرمایا: تم ، تمہارا بھائی اور تمہاری والدہ ان لوگوں کے ساتھ ہوجن پر اللہ کریم   نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا، صدیقین ، شُہَدااورصالحین۔ انہوں نے اتنا کہا اور ان کى روح