Khuwaish Parasti Ka Anjaam

Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam

نہریں جاری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

یعنی اے مَحْبوب  صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم  ! لوگوں سے فرمائیے! کہ کیا مَیں تمہیں دُنیوی مال و دولت، سونا چاندی، کاروبار، باغات، عُمدہ سواریوں اور بہترین مکانات سے اچھی، عمدہ اور بہتر چیز بتا دُوں؟ سنو! وہ اللہ پاک کے قُرب کا گھر یعنی جنّت ہے، اِس میں دُودھ، شہد، پاکیزہ شراب کی نہریں بہہ رہی ہیں، یہ جنّت پرہیز گاروں کے لیے ہے اور وہ اِس میں ہمیشہ رہیں گے۔([1])

غیر مسلموں کے لیے دُنیا اور ہمارے لیے آخرت

مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ، حضرت عمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہ عنہ  بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، دیکھا؛ ایک چمڑے کا تکیہ ہے، جس کے اندر کھجور کی چَھال بھری ہوئی ہے، سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار  صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم  اُس تکیے پر ٹیک لگائے کُھردرے بان (Coarse Fibre Cords)سے بُنی ہوئی چار پائی پر لیٹے ہوئے ہیں، چار پائی پر کوئی بستر یا کپڑا بھی نہیں تھا، جب سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار  صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم  چار پائی سے اُٹھے تو آپ کے جسم مبارک پر بَان کے نشانات پڑے ہوئے تھے۔

آقا کریم  صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم  کی دُنیا سے بےرغبتی کا یہ مَنْظَر دیکھ کر عاشِقِ صادِق حضرت عمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہ عنہ  کا دِل بھر آیا، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ سرورِ عالَم، نورِ مُجَسَّم  صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم  نے عاشقِ زار کو روتے دیکھا تو فرمایا: اے عمر! کیوں روتے ہو؟ عرض کیا: یَا رسولَ اللہ  صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم  ! خُدا کی قسم! مَیں جانتا ہوں کہ آپ اللہ


 

 



[1]... تفسیر صراط الجنان، پارہ:3، سورۂ آلِ عمران، زیر آیت:15، جلد:1، صفحہ:446 ملتقطاً۔