Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
یہ سُن کرحضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسوبہنے لگے اور آپ نے فرمایا :
لَئِنْ كَانَ حَظَّنَا مِنْ هٰذَا الْحُطَامِ وَذَهَبُوْا بِالْجَنَّةِ لَقَدْ بَايَنُوْنَا بَوْناً بَعِيْدًا
کاش!ہمارے لیے دُنیا کا حصہ چند لکڑیاں ہوتیں، وہ محتاج مسلمان اپنے حصے میں جنّت لے گئے، ہم میں اور اُن میں بہت فرق ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں یہ یاد رہے کہ دُنیا کی حلال چیزوں سے لذّت اُٹھانا گُنَاہ نہیں ہے، بالکل جائِز ہے۔ البتہ! حلال نعمتوں کا بھی حساب تو ہونا ہے۔ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علیُ المرتضیٰ شیرِِ خدا رَضِیَ اللہ عنہ کی خِدْمت میں سُوال ہوا: دُنیا کے مُتَعلِّق آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: حَلَالُهَا حِسَابٌ وَحَرَامُهَا عَذَابٌدُنیا کی حرام چیزوں پر عذاب ہے اور حلال نعمتوں کا روزِ قیامت حساب ہو گا۔([2])
اللہ اکبر! تصوُّر باندھیے! قیامت کا 50 ہزار سالہ دِن، سب اگلے پچھلے حاضِر ہوں گے، میزانِ عمل رکھ دیا جائے گا، سورج گرمی برسا رہا ہو گا، تانبے کی زمین خُوب دہکتی ہو گی، اِس حالت میں اُس تانبے کی دہکتی ہوئی زمین پر کھڑے ہو کر حساب دینا کتنا مشکل ہو گا، اگر آج ہم حلال ہی سہی مگر لذّتوں کا شکار ہو جائیں، دُنیا کی نعمتیں خُوب استعمال کرتے رہیں، روزِ قیامت اِن کا حساب دینا پڑے گا، تب کیا کریں گے۔
حضرتِ حاتِم اَصَمّ رحمۃُ اللہ علیہ کو ایک مالدار شخص نے اِصْرار کرتے ہوئے کھانے کی