Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
ایک غلط فہمی ہے۔ فرض رکعتوں کے بعد، سُنّتیں وغیرہ پڑھ لینے سے پہلے باتیں کرنا مکروہِ تنزیہی ہے (یعنی گُنَاہ نہیں، ہاں! شرعًا ناپسندیدہ ہے) اور ایسا کرنے سے بعد کی سُنّتیں ادا ہو جاتی ہیں، ان کا ثواب بھی ملتا ہے، البتہ! ثواب میں کمی آجاتی ہے۔ سُنّت طریقہ یہی ہے کہ فرض رکعتوں کے بعد باتیں وغیرہ کرنے سے بچیں اور فورًا سُنّتیں وغیرہ پڑھ لیں۔ بہار شریعت میں ہے: جن فرضوں کے بعد سُنّتیں ہیں، ان میں فرض ادا کرنے کے بعد کلام نہ کرنا چاہیے، اگرچہ سُنَتیں ہو جائیں گی، مگر ثواب کم ہو گا اور سُنّتوں میں تاخیر مکروہ ہے۔([1]) اللہ پاک ہمیں دُرست اسلامی اَحْکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ
رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم نے فرمایا : جس نے صبح اور شام 100، 100مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ پڑھا قیامت کے دن اُس سے افضل عمل لے کر آنے والا کوئی نہ ہوگا مگر وہ جو اِس کی مثل کہے یا اُس سے زیادہ پڑھے۔([2])اللہ پاک عَمَل کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد