Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
پاک کے رسول ہیں، بارگاہِ اِلٰہی میں آپ کا بڑا اُونچا مَقام ہے، آپ قیصر و کِسْریٰ (روم اور ایران کے بادشاہوں) سے بہت زیادہ عزّت والے ہیں، یَارسولَ اللہ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم ! مجھے رونا اِس بات پر آیا کہ قیصر و کسریٰ تو دُنیوی نعمتوں میں عیش سے زندگی گزاریں اور آپ اللہ پاک کے رسول ہونے کے باوُجُود ایسی زاہدانہ زِندگی بسر فرماتے ہیں؟ عاشِقِ زار کی تشویش سُن کر سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم نے فرمایا: عُمر! کیا تم اِس پر راضی نہیں کہ اُن غیر مسلموں کے لیے دُنیا ہے اور ہمارے لیے آخرت ہے؟([1])
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! ہمارے آقا، پیارے پیارے مصطفےٰ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم دُنیا سے کس قدر بےرغبتی رکھتے تھے، یہاں کی فانی نعمتوں اور عیش و عشرت سے دُور رَہتے ہوئے کیسی سادہ اور زَاہِدانہ زندگی گزارا کرتے تھے۔
سلام اُس پر کہ جس نے بے کسوں کی دَستگیری کی
سلام اُس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اُس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
سلام اُس پر کہ سادہ بَورِیا جس کا بچھونا تھا
اَہْلِ بیت سے مُتَعلِّق خواہشِ مصطفےٰ
روایت ہے: پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی عادتِ کریمہ تھی کہ سَفَر کی ابتدا بھی بی بی فاطمۃُ الزَّہْرَا رَضِیَ اللہ عنہا کے گھر مبارَک سے کر تے تھے اور واپسی پر بھی سب سے پہلے اِنہی کے گھر تشریف لاتے تھے۔ ایک مرتبہ پیارے آقا، مکی