Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
جی چاہ رہا تھا، لہٰذا بازار سے خرید لایا ہوں۔حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا:
كُلَّمَا اِشْتَهَيْتَ شَيْئًا اِشْتَرَيْتَهُ؟
ترجمہ: تمہیں جب کسی چیز کی خواہش ہو تو خرید لیتے ہو؟
اَمَا تَخْشَى اَنْ تَكُونَ مِنْ اَهْلِ هَذِهِ الْآيَةِ
ترجمہ: کیا ڈرتے نہیں ہو کہ اِس آیت میں جن کا ذِکْر ہے، کہیں اُن میں سے نہ ہو جاؤ!([1])
اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ (پارہ:26، سورۂ احقاف:20)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تم اپنے حصے کی پاک چیزیں اپنی دُنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے۔
کاش! ہمارے حصّے میں لکڑیاں ہوتیں
جب حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ عنہ ملکِ شام میں گئے تو اُن کے لیے ایسا لذیذ کھانا تیار کیا گیا کہ اس سے پہلے اتنالذیذ کھانادیکھانہیں گیاتھا،حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا:
هٰذَا لَنَا! فَمَا لِفُقَرَاءِ الْمُسْلِمِيْنَ الَّذِيْنَ مَاتُوْا وَ ہُمْ لَا یَشْبَعُوْنَ مِنْ خُبْز ِالشَّعِيْرِ
یہ کھاناہمارے لیے ہے توان محتاج مسلمانوں کے لیے کیا تھا جو اِس حال میں فوت ہو گئے کہ انہوں نے جَو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی؟
حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ عنہ نے عرض کی:
لَهُمُ الْجَنَّة
ان کے لیے جنّت ہے ۔