Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
پکارنے لگے۔([1])
اللہ پاک کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَدَقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
بخش بے پُوچھے لَجائے کو لَجانا کیا ہے([2])
وضاحت:اے مالک کریم! اپنے پیارے مَحْبوب صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کی حیا کے صدقے مجھ سے حساب نہ لینا، بغیر پوچھ گچھ کے میری بخشش فرما دے، شرمندہ شخص کو مزید کیا شرمندہ کرنا...؟وہ تو پہلے ہی بڑا شرم سار ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! افسوس کی بات ہے کہ آج ہم دُنیا پرستی میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئے ہیں، اللہ پاک نے غیر مسلموں کاوَصْف بیان کیا:
اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ- (پارہ:26، سورۂ احقاف:20)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تم اپنے حصے کی پاک چیزیں اپنی دُنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اُٹھا چکے۔
یہ ہے تو غیر مسلموں کا وَصْف مگر افسوس! بہت سارے مسلمانوں نے بھی اِس بُرے عیب کو کافی حَدْ تک اَپنا لیا ہے، ہمارے سامنے صِرْف دُنیا ہی دُنیا ہوتی ہے، آخرت کا فائدہ کم ہی لوگ دیکھتے ہیں *ہماری زندگی کا مقصد:اُونچی کوٹھیاں بنانا، کاریں خریدنا، امیر ہونا،