Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
بزنس بڑھانا *ہماری دِن رات کی روٹین: کمانا، کھانا، پہننا، سونا *ہماری خواہشات: شہرت، عزّت، وَاہ وَا، سب سے نمایاں دِکھنا، سب سے نمایاں رہنا *افسوس کی بات یہ ہے کہ جو خالصتاً دِینی چیزیں ہیں، یعنی وہ کام جن سے ہم آخرت کما سکتے ہیں، آج کل لوگ وہ اُخْروِی کام بھی دُنیاوِی لذّت کے تحت کرنے لگے ہیں، مثال کے طور پر *عِلْم سیکھنا اچھا عمل ہے مگر ہمارے ہاں عِلْم صِرْف و صِرْف نوکری پانے، پیسا کمانے کے لیے سیکھا جانے لگا ہے، اسی لیے تو لوگ ڈگریاں اکٹھی کرتے ہیں، عِلْمِ دین سیکھنے کی طرف دھیان نہیں دیتے *اسی طرح عِبَادت تو آخرت کے لیے ہی کی جاتی ہے نا، مگر ہمارے ہاں لوگ عبادت کی بھی نمائش کر ڈالتے ہیں تاکہ دُنیا میں عزّت ملے، شہرت ہو، لوگوں کو پتا چلے کہ ما بدولت *بہت سخی ہیں *بڑے نمازی پرہیز گار ہیں۔
غرض؛ ہماری نگاہوں کی ابتدا و اِنتہا صِرْف دُنیا بنتی چلی جا رہی ہے، ہم نے کچھ آخرت کے لیے بھی بچا کر رکھنا ہے، اِس جانِب تَوَجُّہ ہی نہیں جاتی ہے، کاش! ہم دُنیا کی بجائے آخرت کے طلب گار بن جاتے۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا
(پارہ:3،سورۂ آلِ عمران:15)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: (اے حبیب!) تم فرماؤ، کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں ؟ (سنو، وہ یہ ہے کہ) پرہیزگاروں کے لئے ان کے ربّ کے پاس جنّتیں ہیں جن کے نیچے