Khuwaish Parasti Ka Anjaam

Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam

دعوت دی، فرمایا: میری یہ 3شَرطیں مانو توآؤں گا (1):میں جہاں چاہوں گا بیٹھوں گا (2):جو چاہوں گا کھاؤں گا (3):جو کہوں گا وہ تمہیں کرنا پڑے گا۔ اُس مالدار نے وہ تینوں شرطیں منظور کرلیں ۔ اللہ پاک کے نیک بندے کی زیارت کے لیے کافی لوگ جَمْع ہو گئے۔ مقرّرہ وقت پر حضرتِ حاتِم اَصَمّ  رحمۃُ اللہ علیہ  بھی تشریف لے آئے اور جہاں لوگوں کے جُوتے پڑے تھے وہاں بیٹھ گئے ۔ جب کھانا شُروع ہوا ، حاتِم اَصَمّ  رحمۃُ اللہ علیہ  نے اپنی جَھولی میں ہاتھ ڈال کر سُوکھی روٹی نکال کر تناوُل فرمائی ۔ جب دعوت کا اختِتام ہوا ، مَیزبان سے فرمایا: چُولہا لاؤ اور اُس پر تَوَا رکھو، حکم کی تعمیل ہوئی، جب تَوا آگ کی تَپِش سے اَنگارہ کی طرح سُرخ ہوگیا تو آپ  رحمۃُ اللہ علیہ  اُس پرننگے پاؤں کھڑے ہوگئے اور فرمایا: میں نے آج کے کھانے میں سُوکھی روٹی کھائی ہے۔ یہ فرما کر تَوے سے نیچے اُتر آئے اور حاضِرین سے فرمایا: اب آپ حضرات بھی باری باری اِس تَوے پر کھڑے ہوکر جو کچھ ابھی کھایا ہے اُس کا حساب دیجیے ۔ یہ سُن کر لوگوں کی چیخیں نکل گئیں ، بَیَک زَبان بول اُٹھے: یاسیِّدی! ہم میں اِس کی طاقت نہیں ، (کہاں یہ گرْم گرْم تَوَا اور کہاں ہمارے نَرم نَرم قدم! ہم تو گنہگار دُنیا دار لوگ ہیں ) آپ نے فرمایا: جب اِس دُنیوی گَرْم تَوے پر کھڑے ہوکرآج صِرْف ایک وَقْت کے کھانے کی نعمت کا حساب نہیں دے سکتے تو کل بَروزِ قِیامت آپ حَضرات زِندَگی بھر کی نعمتوں کا حساب کس طرح دیں گے..؟ پھرآپ نے پارہ 30 کی آخِری آیت کی تلاوت فرمائی :

ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸) (پارہ:30، سورۂ تکاثر:8)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کے مُتَعلِّق پوچھا جائے گا۔

یہ رِقّت انگیز اِرْشاد سُن کر لوگ دَھاڑیں مار کر رونے او ر گناہوں سے تَوْبَہ تَوْبَہ