Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
لیں تو پتا چلے گا کہ ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا۔ پتا نہیں کہاں مصروف رہتے ہیں؟ پتا نہیں کیا کرتے رہتے ہیں؟ کام اتنے زیادہ، نتائج نظر ہی نہیں آتے *یُوں مالداروں کو دیکھ لیجیے! اُن کی مصروفیات بڑھتی ہی رہتی ہیں، ایک دُکان چل پڑی تھی، اب دوسری کی فکر ہے *ایک کاروبار کھل گیا، اب اُس کی برانچز(Branches) بنانے میں مَشْغُول ہو گئے، جب مقصد دُنیا بن جائے تو آدمی دُنیا کی فِکْر میں یُوں لگ جاتا ہے کہ آخرت کے لیے ٹائم ہی نہیں ملتا ۔
جو شخص اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا مقصد دنیا ہوتا ہے تو اس پر تیسری آفت یہ ڈالی جاتی ہے کہ وہ ایسی مُفْلِسی میں پھنس جاتا ہے کہ کبھی مالدار نہیں ہوتا۔ شاید آپ سوچیں کہ معاشرے میں ایسے کئی اَفراد ہیں جنہیں صبح و شام مال کمانے کی فکر ہوتی ہے لیکن اِس کے باوجود وہ مفلس نہیں بلکہ مالدار ہوتے ہیں تو یاد رکھیے! اصل مالداری یہ نہیں کہ کسی کے پاس مال و دولت کی کثرت ہو بلکہ اصل مالداری یہ ہے کہ بندہ دِلی طور پر مالدار ہو۔ حضر تِ شیخ سعدی رحمۃُ اللہ علیہ نے بڑی پیاری بات اِرشاد فرمائی ہے:
تَوَنگَری بَہ دِل سَت نَہ بَہ مَال بُزُرْگی بَہ عَقْل سَتْ نَہ بَہ سَال
وضاحت: تَوَنگَری (یعنی مالدار ہونا) دل سے ہے نہ کہ مال و دولت سے، بُزُرْگی عقل سے ہے نہ کہ عُمر کے لحاظ سے۔
جو شخص دِلی طور پر مالدار نہیں وہ بظاہر کتنا ہی مالدار ہو مُفلس ہی ہوتا ہے،ایسے شخص کو مال کی ہَوس زیادہ ہوتی ہے،وہ اپنا مال بڑھانے کے لیے پرائز بانڈز(Prize bonds) جمع