Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
ذرا غور کیجیے! آج کون خوش ہے؟ * کسی کا باپ بیمار ہےتو کسی کی ماں*کسی کا بچہ بیمار ہےتو کوئی بے روزگار*کوئی تنگدست ہے تو کوئی قرض دار*کسی کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے تو کسی کے ساتھ کچھ،اَلغرض! لوگوں کی بڑی تعداد کسی نہ کسی غم میں گرفتار ہے، حالات ایسے ہیں کہ ایک غم اور پریشانی سے ابھی نکلتے نہیں ہیں، دوسری تیار کھڑی ہوتی ہے، کسی شاعِر نے کہا تھا:
اِکْ اور دریا کا سامنا تھا مُنِیْر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا
وضاحت: یعنی بڑی مشکلوں سے میں نے ایک غم کا دریا پار کیا تھا، ابھی پار کر کے نکلا ہی تھا تو سامنے غم کا ایک اور دریا موجود تھا۔
بس ایسے ہی کچھ حالات ہمارے چلتے رہتے ہیں۔ یقیناً دُنیا میں پریشانیاں نیک لوگوں کو بھی آتی ہیں مگر ہمیں فِکْر کرنی چاہیے کہ یہ پے دَر پے پریشانیاں اور غم آتے چلے جانا کہیں دُنیاوِی فِکروں کا نتیجہ تو نہیں ہے؟
دوسری آفت: نہ ختم ہونے والی مَشْغُوْلِیَّت
جو شخص اِس حالت میں صبح کرتا ہے کہ اُس کا سب سے بڑا مقصد دُنیا ہو تو اُس پر دوسری آفت یہ ڈالی جاتی ہے کہ وہ ایسی مَشْغُولِیَّت میں پھنس جاتا ہے جس سے فراغت نہ ہو۔
اب یہ بھی ہمارے ہاں بڑا عام مسئلہ ہے، ہم میں سے کسی سے پُوچھ لیں: ٹائِم ہے؟ جواب ملے گا: نہیں بھائی! ٹائِم نہیں ہے۔ بہت مصروف ہوں۔ عجیب حالت ہے، کام ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، مصروفیات ہیں کہ کم ہوتی ہی نہیں ہیں اور ذرا بیٹھ کر ہم اپنا جائِزہ