Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سَفَر سے واپس تشریف لائے، حضرت فاطمۃُ الزَّہْرَا رَضِیَ اللہ عنہا کے گھر پہنچے، دیکھا کہ دروازے پر نقش و نگار والا خوبصُورت پردہ لٹک رہا ہے اور حَسْنَیْن کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللہ عنہما کے ہاتھ میں چاندی کی بنی کوئی چیز ہے۔ یہ دیکھ کر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اُن سے مِلے بغیر ہی واپس تشریف لے آئے۔ حضرت بی بی فاطمۃُ الزَّہْرَا رَضِیَ اللہ عنہا کو اندازہ ہو گیا، آپ نے فورًا وہ پردہ اُتارا، حَسْنَیْن کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللہ عنہما سے وہ چاندی کی چیز لی اور بارگاہِ رسالت میں بھیج دی۔
اب حَسْنَیْن کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللہ عنہما ننھے شہزادے تھے، اُن سے وہ چیز لی گئی تو دونوں رونے لگے، روتے روتے ہی بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک صحابی کو وہ چاندی عطا فرمائی اور حکم دیا: اسے بیچ دَو اور اس کے بدلے فاطمہ کے لیے لکڑی کا بنا ہوا ہار لے آؤ! بیشک یہ میرے اَہْلِ بیت ہیں، مجھے پسند نہیں ہےکہ یہ اپنی نعمتیں دُنیا ہی میں استعمال کر لیں۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے میرے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی...!! ہمارے ہاں بچوں کو موبائِل تھمائے جاتے ہیں، بچے اس میں جو چاہیں دیکھیں، بچپن ہی میں اُن کے ذہن خراب ہوں، سوچیں اُلٹ پلٹ ہو جائیں، کوئی پَروا نہیں ہوتی، اگر کہا جائے کہ بھائی! بچوں کو موبائِل نہ دیا کرو! جواب ملتا ہے: کیا کریں، بچے روتے بہت ہیں۔
اللہ! اللہ! دیکھیے! ہمیں اپنے بچوں سے اتنی محبّت نہیں ہے، جتنی پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو حَسْنَیْن کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللہ عنہما سے تھی، وہ دونوں شہزادے، جن کی آنکھ کا آنسو آسمان کے فِرشتے بھی گوارا نہیں کرتے، وہ دونوں شہزادے رَو رہے ہیں، اِس کے باوُجُود