Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اُن سے چاندی کی وہ چیز لے لی اور کیا فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ یہ اپنی نعمتیں دُنیا ہی میں استعمال کر لیں۔
دُنیاوی فکروں میں رہنے کے نقصانات
حدیثِ پاک میں ہے:
مَنْ اَصْبَحَ وَالدُّنْيَا اَكْبَرُ هَمِّهٖ اَلْزَمَ اللهُ قَلْبَهُ اَرْبَعَ خِصَالٍ، لَايَنْفَكُّ مِنْ وَّاحِدَةٍ حتَّى يَاْتِيْهِ الْمَوْتُ هَمٌّ لَّا يَنْْقَطِعُ اَبَدًا، وَشُغْلٌ لَا يَتَفَرَّغُ اَبَدًا، وَفَقْرٌ لَا يَبْلُغُ غِنًى اَبَدًا، وَاَمَلٌ لَا يَبْلُغُ مُنْتهَاهٗ اَبَدًا
ترجمہ: جس نے اِس حالت میں صُبح کی کہ اُس کا سب سے بڑا مقصد(Goal) دُنیا ہو تو اُس کا اللہ پاک کی رِضاوقُربت سے کچھ تَعلُّق نہیں اور اللہ پاک اُس کے دِل میں 4چیزیں پیدا کردیتاہے:(1):ایسا غم جو کبھی ختم نہ ہو (2):ایسی مَشْغُولِیَّت جس سے فَراغت نہ ہو (3):ایسا فقر جس کے بعد خُوشحالی نہ ہواور (4):ایسی اُمّید جو کبھی پُوری نہ ہو۔([1])
اللہ اکبر! آج ہم اپنی حالت پر بھی ذرا غور کر لیں اور حدیثِ پاک میں بیان کی گئی ان 4 آفات کو سامنے رکھ کر اپنا جائِزہ بھی لے لیں۔ افسوس! حالت یہ ہے کہ ہماری پہلی اور آخری فکر بس دُنیا، دُنیا اور دُنیا ہی رہ گئی ہے۔ یہ 4 آفات بھی گویا معاشرے میں گھر کر چکی ہیں۔
پہلی آفت : نہ ختم ہونے والا غم
پہلی آفت: فرمایا:
هَمٌّ لَّا يَنْقَطِعُ اَبَدًا یعنی نہ ختم ہونے والا غم۔