Book Name:Khuwaish Parasti Ka Anjaam
کرکے رکھتا ہے،اُس کا اپنے ملک میں کاروبار کرنے سے پیٹ نہیں بھرتا تو دیگر ممالک کا رُخ کرتا ہے اور یوں دُنیا بھر میں کاروبار پھیلا دیتا ہے لیکن افسوس! دُنیوی مصروفیت کی وجہ سے وہ دین کے لیے وقت نہیں نکال پاتا۔یاد رکھیے! جس میں دُنیوی مال و دولت کی ہَوس نہ ہو اور وہ رات کو کھانا کر کھا کر اطمینان سے سو جاتا ہو وہی سب سے بڑا مالدار ہے۔ وہ بےچارہ کیا مالدار ہے جسے نہ دن میں آرام ملتا ہے نہ رات میں،اگر رات کو تھک ہار کر سوتا ہے تو کاروبار کی فکر سے اُ س کی آنکھ کھل جاتی ہے۔
چوتھی آفت : نہ ختم ہونے والی اُمِّید
جو شخص اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اُس کا سب سے بڑا مقصددنیا ہو تو اس پر چوتھی آفت یہ ڈالی جاتی ہے کہ وہ ایسی اُمّید میں پھنس جاتا ہے جو کبھی پوری نہیں ہوتی۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ دُنیا کو اپنا مقصدِ حیات بنا لینے کی آفات ہیں۔ اللہ پاک ہمیں ان آفات سے محفوظ فرمائے۔ کاش! ہم اپنی آخرت کی فِکْر کرنے والے بن جائیں۔
دُنیا کو آخرت پر ترجیح مت دیجیے!
پارہ:25، سورۂ شُوریٰ، آیت:20 میں اللہ پاک اِرْشاد فرماتا ہے:
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰)(پارہ:25 ،سورۂ شوریٰ :20)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے توہم اسے اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ۔