Book Name:4 Buraiyon Ke Nishandahi
اور اِتْرا کر چلنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔([1])
حضرت حُذَیْفہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دِن ہم مَحْبوبِ ذیشان صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ پاک کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ فرمایا: وہ بداَخْلاق اور تکبّر کرنے والا ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ پاک کے بہترین بندے کے مُتَعلِّق نہ بتاؤں۔ فرمایا: وہ کمزور سمجھا جانے والا، پُرانے لباس والا شخص ہے، اگر کسی بات پر قسم کھالے تو اللہ پاک اُس کی قسم پُوری فرما دیتا ہے۔ ([2])
حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا؛ جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا(یعنی تھوڑا سا)بھی تَکَبُّر ہو گا وہ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔([3])
حضرت مُطَرِّف بن عبداللہ رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک لشکر کے سپہ سالار مُہَلَّب کو اَکَڑ کر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے اللہ کے بندے! اللہ اور اُس کے رسول کو یہ چال پسند نہیں۔اُس نے جواباً کہا:کیا تم مجھے پہچانتے نہیں کہ میں کون ہوں! فرمایا:کیوں نہیں، میں