Book Name:4 Buraiyon Ke Nishandahi
مالداروں کی خوشامد میں ہلاکت ہے بڑی تُو گناہوں میں پڑے گا آئے گی شامت تِری
کان دَھرکے سُن! نہ بننا تُو حَرِیْصِ مال و زَرْ! کر قناعت اِختیار اے بھائی تھوڑے رِزق پر([1])
حدیثِ پاک میں ہے؛ ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا، عرض کیا: یارسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے کیا ہو گیا کہ میں موت کو پسند نہیں کرتا(یعنی میرا دِل دُنیا کی طرف مائل ہے، مَیں اپنے دِل میں آخرت کی طرف مَیلان کم پاتا ہوں اور موت جو جنّت تک پہنچنے کا راستہ ہے، مجھے یہ موت پسند نہیں)۔ سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: اپنا مال (آخرت کے لیے صدقہ و خیرات کر کے) آگے بھیج دو! کیونکہ آدمی کا دِل اپنے مال کے ساتھ ہوتا ہے، اگر یہ اپنے مال کو آگے بھیج دے (یعنی صدقہ و خیرات کر دے) تو اُس سے ملنا چاہتا ہے اور اگر مال کو پیچھے چھوڑ دے تو اُس کے ساتھ پیچھے رہنا چاہتا ہے ۔([2])
ہمارے دل سے نکل جائے اُلْفتِ دنیا دے دل میں عشقِ مُحَمَّد مِرے رَچا یاربّ!([3])
مَعْلُوم ہوا؛ صدقہ کر کے مال آخرت کے لیے ذخیرہ کر دینے کی بَرَکت سے دِل سے دُنیا کی محبّت ختم ہوتی اور اللہ و رسول کی محبّت نصیب ہوتی ہے، لہٰذا صدقہ و خیرات کرنے کی عادَت بنائیے!