Book Name:4 Buraiyon Ke Nishandahi
بس مال چاہیے ہوتا ہے، حرام ذریعے سے آ رہا ہے یا حلال ذریعے سے، اِس کی اُسے کوئی پروا نہیں رہتی۔ دِل میں مال کی محبّت اتنی زیادہ بڑھ جائے تو اسے شُحٌّ کہا جاتا ہے۔([1])
شُحٌّ سے بچو کہ اس نے پہلے والوں کو ہلاک کر دیا
صحابی اِبْنِ صحابی حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہما سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: شُحٌّ (یعنی مال کی انتہائی محبّت) سے بچو! بے شک تم سے پہلے والوں کو اس نے ہلاک کردیا *شُحٌّ (یعنی مال کی انتہائی محبّت) نے انہیں رشتے توڑنے پر اُبھارا تو انہوں نے رشتے توڑے *اِسی نے اُنہیں کنجوسی پر اُبھارا تو انہوں نے کنجوسی کی *مال کی اِس انتہائی محبّت نے انہیں گُنَاہوں پر اُبھارا تو یہ گُنَاہوں کی دلدل میں جا گِرے۔ ([2])مُسْلِم شریف کی روایت میں ہے: شُحٌّ (یعنی مال کی انتہائی محبّت) نے تم سے پہلوں کو قتل پر اُبھارا تو انہوں نے قتل کیے اور حرام کو حلال ٹھہرانے لگے۔ ([3])
مال جمع کرنے اور گِن گِن کر رکھنے والے کی مذمت
پارہ:30، سورۂ ہُمَزَہ، آیت:2 تا 9 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ(۲) یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ(۳) كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ(۴) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ(۵) نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ(۶) الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـٕدَةِؕ(۷) اِنَّهَا عَلَیْهِمْ
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: جس نے مال جوڑا اور اسے گن گن کر رکھا وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے (دنیا میں ) ہمیشہ رکھے گا۔ ہر گز نہیں، وہ ضرور ضرور چورا چورا کردینےوالی