4 Buraiyon Ke Nishandahi

Book Name:4 Buraiyon Ke Nishandahi

عبادت گزار مانے جاتے تھے اُن کے ساتھ نفسانی خواہشات نے وہ گُل کھلائے کہ اُن نیک اعمال برباد ہو گئے اور وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔

بد نصیب عابد

بنی اسرائیل میں ایک عابِد(عبادت گزار) تھا جس کی دُعائیں رَد نہیں کی جاتی تھیں، لوگ اپنے مریضوں کو اُس کے پاس لاتے وہ دُعا کرتا تو صحت یاب ہوجاتے۔ایک مرتبہ علاج کے لیے  بادشاہ کی لڑکی کو اُس کے پاس چھوڑ دیا گیا، وہ اُس کا علاج کرتا رہا یہاں تک کہ شیطان نے اُس کے دل میں بُرائی ڈالی اورنہ کرنے والا کام ہوگیا ۔اُس نے خوف کی وجہ سے لڑکی کو قتل کرکے دفن کر دیا۔شیطان اِنسانی شکل میں بادشاہ کے پاس گیا اور اُسے اِس واقعہ سے آگاہ کرکے قبر کے بارے میں بھی بتا دیا چنانچہ بادشاہ نے زمین کھدوائی تو لاش برآمد ہو گئی۔ اب جب سزا کے طور پر اُس عابِد کو سُولی پر لٹکایا جانے لگا تو شیطان اُس کے پاس آیا اورکہنے لگا: میں تجھے اِس سے نجات دِلاسکتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ تُو مجھے سجدہ کر۔عابِد نے شیطان کو سجدہ کیا تو شیطان کھلکھلا کر ہنسا اور بولا: میرا تجھ سے کوئی تَعلُّق نہیں۔پھر اُس بدنصیب عابِد کو سُولی پر لٹکا دیا گیا۔([1])

غور کیجیے! نفسانی خواہش کو قابو میں نہ رکھنے کی وجہ سے بدنصیب عابِد اپنی دُنیا وآخرت برباد کر بیٹھا۔بد قسمتی سے آج کل حالات اتنے خَراب ہوگئے ہیں کہ اگر کوئی اِس دور میں گناہ سے بچا ہوا ہے تو شاید اِس لیے کہ اُسے گناہ کرنے کا موقع نہیں ملا، یا وہ اِس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں بےعزتی نہ ہو جائے ورنہ اگر بالکل کھلی چھوٹ مل جائے تو شاید ہی کوئی


 

 



[1]... تنبیہ الغافلین،باب عداوۃ الشیطان ومعرفۃ مکایدہ،صفحہ:326ملخصاً۔