Book Name:4 Buraiyon Ke Nishandahi
گناہ سے رُک پائے۔ویسےجس طرح آج کل گلی کوچوں میں کھلے عام ناچ گانوں کے فنکشنز(Functions) ہو رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے گناہوں کی کُھلی چُھوٹ مل چکی ہے۔ کاروں میں سفر کرنے والے گانے سُن کر مستی میں ہِل رہے ہوتے ہیں اور اِسکوٹر اور سائیکل چلانے والے گانوں کی آواز سُن کر اپنے سَروں کو ہِلانا شروع کر دیتے ہیں۔ایسا نازک دور آ گیا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں مل کر ناچتے ہیں اور ناچ گانوں کے ایسے ایسے پروگرامز مُنعَقِد کیے جاتے ہیں کہ اِن میں جو کچھ ہوتا ہے اُسے اَلْفاظ میں بیان کرنا مناسب نہیں۔ اللہ پاک ہمارے حالِ زار پر رحم فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! چوتھی بُری بیماری دُنیا کی محبّت اور حِرْص و لالچ ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پارہ:28،سورۂ حشر:9)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور جسے اس کے نفس کے لالچی پن سے بچالیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔
شُحٌّ کا مطلب ہےکہ بندہ مال کی محبّت میں اتنا آگے گزر جائے کہ اب اُسے حلال حرام کی تمیز بھی نہ رہے، یعنی اس درجے پر آکر مال کی محبّت حِرْص کی بجائے ہَوَس میں بدل جاتی ہے، اب بندہ چاہتا ہے کہ بس مال آئے، اس کے لیے سُودی لَیْن دَین میں بھی پڑتا ہے، رِشْوت بھی کھاتا ہے، ناپ تول میں ڈنڈی بھی مارتا ہے، دوسروں کو دھوکہ بھی دیتا ہے، غرض؛ اسے