4 Buraiyon Ke Nishandahi

Book Name:4 Buraiyon Ke Nishandahi

مُّؤْصَدَةٌۙ(۸) فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠(۹)(پارہ:30،سورۂ ہُمَزَہ:2-9)

میں  پھینکا جائے گا۔اور تجھے کیا معلوم کہ وہ چورا چورا کردینے والی کیا ہے؟وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے ۔وہ جو دلوں  پر چڑھ جائے گی۔بیشک وہ ان پر بند کردی جائے گی۔لمبے لمبے ستونوں  میں ۔

ان آیات کے تحت تفسیر صراطُ الجنان میں جو وضاحت کی گئی، اس کا خُلاصہ کچھ یوں ہے کہ وہ شخص جو حرام ذرائع سے مال جمع کرتا ہے، اپنے مال سے شرعِی حقوق ادا نہیں کرتا، مال جمع کرنے میں ایسا مَشْغُول ہوتا ہے کہ آخرت کو بُھول ہی جاتا ہے، ایسا شخص کیا یہ سمجھتا ہے کہ اُسے دُنیا میں ہمیشہ رہنا ہے، کیا اُس کا مال اسے موت سے بچا لے گا کہ اُس کے بھروسے پر یہ مال کی محبّت میں مَسْت رہتاہے، نیک اَعْمَال کی طرف مائِل نہیں ہوتا؟ نہیں... ایسا ہر گز نہیں ہو گا بلکہ وہ ضَرور ضَرور جہنّم کے چُورا چُورا کر دینے والے طبقے میں پھینکا جائے گا، جہاں آگ اُس کی ہڈیاں پسلیاں توڑ ڈالے گی اور تم کیا جانو کہ وہ چُورا  چُورا کر دینے والی کیا ہے؟ وہ اللہ پاک کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی، یہ آگ جسم کے ظاہری حِصّے کو بھی جلائے گی اور جسم کے اندر پہنچ کر دِل کو بھی جلا ڈالے گی، بیشک مال کے ایسے حریصوں کو آگ میں ڈال کر دروازے بند کر دئیے جائیں گے۔ ([1])

اَلْاَمَانُ وَالْحَفِیْظ! اَلْاَمَانُ وَالْحَفِیْظ...!!

بھائیو!ہر دَم بچو تم حُبِّ جاہ و مال سے   ہر گھڑی چَوکس رہو شیطان کی اِس چال سے


 

 



[1]...تفسیر صراط الجنان، پارہ:30، سورۂ ھمزہ، زیرِ آیت:2-9، جلد:10، صفحہ:825۔