4 Buraiyon Ke Nishandahi

Book Name:4 Buraiyon Ke Nishandahi

یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ- (پارہ:20،سورۂ قصص:83)

لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے۔

یعنی آخرت کا گھر جنّت اُس کے لیے ہے جو دُنیا میں غلبہ اور بڑائی نہیں چاہتا، نہ گُنَاہ کر کے زمین میں فساد پھیلاتا ہے۔([1]) مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علیُ المرتضیٰ شیرِ خُدا  رَضِیَ اللہ عنہ  فرماتے ہیں: جو بندہ یہ چاہے کہ میرے جوتے کا تسمہ دوسروں کے تسمے سے اَفْضَل ہو، وہ بھی اس آیت کے حکم میں داخِل ہے۔([2])

اللہ اکبر! جوتے کا تسمہ تو دُور کی بات ہمارے ہاں تو ہر ہر بات میں مُقابَلَہ کیا جاتا ہے، میرا جوتا ایسا ہو کہ لوگ دیکھ کر واہ واہ پُکاریں، میرے کپڑے اعلیٰ ہوں، میرے مکان جیسا مکان کسی کا نہ ہو، میری گاڑی جیسی گاڑی کسی کی نہ ہو، غرض؛ ہر چیز میں مُقابَلَہ (Competition)کیا جاتا ہے اور اس مقابلے سے مقصُود کیا ہوتا ہے؟ حُبِّ جاہ، شہرت، عزّت کہ لوگ مجھے دیکھیں، میری چیزیں دیکھیں تو وَاہ واہ پُکاریں۔

اے عاشقانِ رسول! صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہ عنہم ہمارے آئیڈیل(Ideal) ہیں، ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں،ان کے بھی آپس میں مقابلے ہوتے تھے،یہ بھی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔لیکن کن معاملات میں *نفل روزوں میں *راہِ خدا میں خرچ کرنے میں *عبادات  میں، جیسے مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہ عنہ  غزوہ تَبوک میں گھر کا آدھا مال خیرات کرنے کے لیے لائے تو مسلمانوں


 

 



[1]...حاشیہ صاوی علی تفسیر الجلالین، پارہ:20، سورۂ قصص، تحت الآیۃ:83، جلد:2، صفحہ:304۔

[2]...تفسیر در منثور، پارہ:20، سورۂ قصص، تحت الآیۃ:83، جلد:6، صفحہ:444۔