4 Buraiyon Ke Nishandahi

Book Name:4 Buraiyon Ke Nishandahi

وہ 4بُرائیاں کیا ہیں؟ سنیے! * پہلا پرندہ ہے:مَوْر۔ بڑا حسین پرندہ ہے،اِس کے پَر بہت خوبصورت ہوتے ہیں اور شاید پرندوں میں سب سے زیادہ حسین بھی یہی ہے لیکن اِس میں ایک بُری خصلت پائی جاتی ہے کہ اِسے اپنے حُسن وجمال پر بڑا گَھمَنڈ ہوتا ہے *گدھ بالکل بدنام پرندہ ہے،یہ مُردے کھاتا ہے اور اِس کی بُری خصلت یہ ہے کہ اِس میں حرص و لالچ کُوٹ کُوٹ کر بَھرا ہوتا ہے* مرغے میں بُری خصلت یہ ہے کہ اِس میں شہوت  (یعنی نفسانی خواہش) زیادہ ہوتی ہے*  کبوتر میں بُری صفت یہ ہے کہ اِس کو اپنی بلند پروازی پر بڑا گَھمَنڈ ہوتا ہے۔

عُلمائے کرام لکھتے ہیں: اگر کوئی آدمی اِن چاروں بُری خصلتوں کو ذَبح کر دے یعنی *اپنے اندر سے گھمنڈ بالکل ختم کر دے *نفسانی خواہشات پر کنٹرول حاصل کر لے *دنیاوِی لالچ کو دل سے نکال دے *اگر عُہدے اور مَنْصَبْ کی خواہش دِل میں ہو تو اسے ختم کر دے اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!اسے بلند درجات نصیب ہوں گے اور دِل نورِ عِرفان سے لَبریز ہوجائے گا۔([1])

بد قسمتی سے اب یہ چاروں خصلتیں عام ہو چکی ہیں۔ گَھمَنڈ ، غُرُور، تکبّر، لالچ عام ہے، مثلاً *تُو جانتا ہے میں کون ہوں؟ کہہ کر سامنے والے کو حقیر ذلیل قرار دے دیا جاتا ہے *4پیسے جیب میں آجائیں تو غریب بُرے لگنا شروع ہو جاتے ہیں *کسی چھوٹے رُتبے والے کو پاس بیٹھتے دیکھ کر بُرا لگتا ہے *اسی طرح لالچ کا یہ عالَم ہے کہ چند پیسوں کی خاطِر لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، خرید و فروخت میں ڈنڈیاں مارتے ہیں، چوری


 

 



[1]... تفسیر جمل،پارہ:3،سورۂ بقرۃ،زیرِ آیت: 260،جلد: 1، صفحہ:327-329مفہوماً۔