Bakhshish Se Mehroom Log

Book Name:Bakhshish Se Mehroom Log

(1): شِرْک سے بچئے!

پہلی بُرائی جو بخشش سے مَحْرُوم رکھتی ہے، وہ ہے: شِرْک۔ یہ قاعِدہ ہمیشہ کے لیے  دِل میں بٹھا لیجیے! کچھ بھی ہو جائے، کافِر اور مشرِک کی روزِ قیامت بخشش نہیں ہےاور نہیں ہے، بَس یہ فائنل بات ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ (پارہ:5، سورۂ نساء:48)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک اللہ پاک اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہتا ہے  معاف فرما دیتا ہے۔

پتا چلا؛ مشرک کی ہر گز ہر گز بخشش نہیں ہے۔

اُمّتِ مصطفےٰ شرک سے مَحْفُوظ

اب ایک اُمِّید اَفْزا بات عرض کروں؛ اَلحمدُ للہ! یہ اُمّت اُمّتِ تَوْحِیْد ہے، جیسے پہلی اُمّتوں میں ہوا کہ انبیائے کرام علیہمُ السَّلَام کے دُنیا سے پردہ فرمانے کے بعد وہ لوگ شِرْک میں مُبتَلا  ہو گئے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! یہ اُمّت کبھی بھی شرک میں مُبتَلا  نہیں ہو گی، کوئی ایک آدھ بندہ شامتِ اعمال سے ایمان چھوڑے اور مشرک بن جائے تو جُدا بات ہے، پُوری اُمّت  یا اُمّت کی اکثریت شرک کرنے لگے، ایسا کبھی نہ ہو گا۔

بُخاری اور مسلم جو حدیث پاک کی سب سے معتبر کتابیں ہیں، ان دونوں میں یہ روایت موجود ہے،محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے قسم اُٹھا کر فرمایا: وَاِنِّي وَاللَّهِ مَا اَخَافُ عَلَيْكُمْ اَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي خُدا کی قسم بیشک میں تمہارے مُتَعَلِّق  یہ خوف نہیں رکھتا کہ تم میرے بعد شرک میں مُبتَلا  ہو جاؤ گے۔([1]) 


 

 



[1]...مسلم، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض...الخ، صفحہ:903، حدیث:2296۔