Bakhshish Se Mehroom Log

Book Name:Bakhshish Se Mehroom Log

اَلحمدُ للہ! یہ رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کا فیضانِ تَوْحِید ہے جو اُمّت کو قیامت تک نصیب رہے گا، اس کی بَرَکت سے یہ اُمّت کبھی بھی شرک میں مُبتَلا  نہیں ہو گی۔

شرکِ خفی سے بچئے!

ہاں! شرک کی ایک قسم ہے، جس میں یہ اُمّت مُبتَلا  ہو سکتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے، شِرْک کی 2قسمیں ہیں: (1): ایک ہے شِرْکِ جَلِی (یعنی اللہ پاک کے عِلاوہ کسی کو عبادت کے لائق سمجھنا)، اس شِرْک سے آدمی اسلام سے نکل جاتا ہے (2):دوسرا ہے: شِرْکِ خفِی (اسے رِیاکارِی کہتے ہیں)۔ اس سے آدمی اِسْلام سے نہیں نکلتا، البتہ! یہ کبیرہ گُنَاہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

صحابئ رسول حضرت شَدَّاد بن اَوْس رَضِیَ اللہ عنہ  فرماتے ہیں: ایک روز میں نے اُمَّت کے غمخوار، مدنی تاجدار  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کے چہرۂ پُرنُور پَر پریشانی کے آثار دیکھے تو عرض کیا: یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان!! یہ پریشانی کے آثار کیا ہیں؟ اُمّت سے محبّت  فرمانے والے آقا، فِکْرِ اُمَّت میں غمگین رہنے والے آقا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: ایک مُعَاملہ ہے جس کا مجھے اپنی اُمَّت کے مُتَعَلِّق  خوف ہے۔ حضرت شَدَّاد رَضِیَ اللہ عنہ  فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یار سولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! وہ کیا مُعَاملہ ہے؟ فرمایا: شِرْک اور خُفْیہ خواہش۔ میں نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کیا آپ کی اُمَّت شرک میں مُبتَلا  ہو جائے گی؟  اس پر فرمایا: اے شَدَّاد! میری اُمَّت سورج، چاند اور پتھروں کی پُوجا نہیں کرے گی مگر میری اُمَّت اپنے اَعْمَال میں دِکھلاوا کرنے لگے گی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کیا رِیاکاری