Bakhshish Se Mehroom Log

Book Name:Bakhshish Se Mehroom Log

اب یہ سمجھ  گیا کہ میں چاہے ہزاروں سال بھی عِبَادت کر لُوں، ماں راضِی نہ ہوئی تو اللہ پاک بھی راضی نہیں ہو گا، لہٰذا گھر واپس آیا، دُور سے ہی پُکارا: یَا مِفْتَاحَ الْجَنَّۃِ اے میری جنّت کی چابی(میری ماں)...!! ماں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: تمہارا بیٹا ہے۔ ماں ابھی بھی تکلیف میں تھی، کہا: میں تجھ سے راضِی نہیں ہوں گی۔ اب تو بیٹے کو بہت ہی دُکھ ہوا، اس کا وہ ہاتھ جس سے اس نے ماں کو تھپڑ مارا تھا، اس نے شِدّتِ غم میں وہ ہاتھ ہی کاٹ ڈالا، پِھر لکڑیاں جمع کیں، انہیں آگ لگائی، آگ کے قریب ہوا اور کہا: اے نافرمان! آخرت کی آگ سے پہلے دُنیا کی آگ کا مزدہ چکھ لے، قریب تھا کہ یہ آگ کے اندر چلا جاتا۔ ماں کا دِل بھر آیا، اُس نے پُکارا: اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک...!! اللہ پاک تجھ سے راضِی ہو...!! رُک جا!

اللہ اکبر! ماں کے یہ کہنے کی دَیْر تھی، وہ کام جو 40 سال کی عِبَادت سے نہیں ہو سکا تھا، ماں کے ایک جملے سے ہو گیا، اللہ پاک نے ایک فرشتہ بھیجا، جس نے اس شخص کا ہاتھ جوڑ دیا اور ماں کو آنکھ واپس لوٹا دی۔([1])

اللہ! اللہ...!! پیارے اسلامی بھائیو! اس واقعہ کی روشنی میں 2باتوں پر تَوَجُّہ دیجیے! (1):  پہلی تو یہ دیکھیے کہ شراب کتنی منحوس چیز ہے، یہ بندہ نیک تھا، تورات شریف کی تلاوت کرتا تھا مگر ایک عیب تھا، یہ شراب پیتا تھا، اس ایک عیب نے اسے رُسْوا کر ڈالا(2):ساتھ اس واقعہ سے ماں باپ کی اہمیت بھی معلوم ہوئی کہ جب تک ماں باپ راضی نہ ہوں، اللہ پاک کی بھی رضا نہیں ملتی۔  لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے ماں باپ کی خُوب خِدْمت کیا کریں، ماں باپ آدھی زبان سے پُکاریں تو فورًا حاضِر ہوں، دوڑ دوڑ کر، ذوق و


 

 



[1]... عجائب بنی اسرائیل، صفحہ:66۔