Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide
حقیقت میں آگے گزرنے والے ہیں اور یہ شان اُن خوش نصیبوں کی ہو گی، جو ذِکْرُ اللہ کا بہت شوق رکھنے والے ہیں۔ سُبْحٰنَ اللہ...!!
ہم جیسے عام انسانوں کا ایک نفسیاتی مسئلہ ہے، ہم لوگ رَیْس بہت لگاتے ہیں، عربی میں اسے مُسَابَقَہ کہتے ہیں یعنی ایک دوسرے سے آگے گزرنے کی کوشش کرنا۔
آپ مُعَاشرے پر غور کر لیجیے! ایک طرح سے آگے گزرنے کی رَیْس لگی ہوئی ہے، * فُلاں نے مہنگا موبائِل لیا، میں اس سے مہنگا لُوں گا* فُلاں نے 5 ہزار والا لباس پہنا، میں 10 ہزار والا پہنوں گا* فُلاں نے 2 منزلہ گھر بنایا، میں 4 منزلہ بناؤں گا* فُلاں نے 1 گاڑی لی، میں 2 لُوں گا* فُلاں نے ایک کاروبار شروع کیا، میں 4 جگہ شروع کروں گا، یُوں ایک دوسرے سے آگے گزرنے کی ایک رَیْس چاہ کر یا نہ چاہتے ہوئے بَس لگی ہی ہوئی ہے۔ ہم دوسروں سے آگے گزرنے کی کوشش میں لگے ہی رہتے ہیں۔
مگر...!! حدیثِ پاک پر غور فرمائیے! حقیقت میں آگے گزرنے والا، دوسروں پر سبقت لے جانے والا کون ہے؟ فرمایا: یَا مُعَاذُ! اِنَّ السَّابِقِیْنَ الَّذِیْن یَسْتَہْتِرُوْنَ بِذِکْرِ اللہ یعنی اے مُعاذ! (حقیقت میں) آگے گزر جانے والے تو وہ ہیں جو ذِکْرُ اللہ کا بہت شوق رکھتے ہیں۔([1])
کاش! ہمیں اس معاملے میں واقعی دُوسروں سے آگے گزر جانے کی سَعَادت نصیب ہو جائے۔