Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide
بلکہ اللہ پاک نے چاہا تو آپ کے صدقے ہم گنہگار بھی بخشے جائیں گے۔
ہو نائبِ سرورِ دو عالم، اِمامِ اعظم ابوحنیفہ!
سِراجِ اُمّت فقیہِ اَفْخَم، اِمامِ اعظم ابوحنیفہ!
جو بے مثال آپ کا ہے تقوٰی، تو بے مثال آپ کا ہے فتوٰی
ہیں علم و تقوٰی کے آپ سَنْگَم، اِمامِ اعظم ابوحنیفہ!([1])
آسمانِ عِلْم پر چودھویں کا چاند
حضرت کَعْبُ الْاَحْبَار رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ جو تابعی بزرگ ہیں؛فرماتے ہیں: میں نے پچھلی آسمانی کتابوں میں اس اُمّت کے عُلَما اور فقہا کے نام پڑھے ہیں، ان میں نُعْمان بن ثابت نام کے عالِم کا بھی ذِکْر موجود تھا، ان کے بارے میں پچھلی آسمانی کتابوں میں لکھا تھا: یہ اپنے زمانے کے تمام اَہْلِ عِلْم کے امام ہوں گے، ان کی شخصیت آسمانِ عِلْم پر چودھویں کے چاند کی طرح چمکے گی، لوگ ان کی زندگی پر بھی رشک کریں گے اور ان کی وفات پر بھی رشک کریں گے۔([2])
اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی پیاری سیرت
اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے خاص شاگِرد امام ابو یوسُف رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:(1):اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ حرام کاموں سے ہمیشہ بچتے (2):عِلْمِ دین کے عِلاوہ بات کرنے سے ڈرتے (3): بہت زیادہ مجاہدہ (یعنی نیک کاموں میں بہت کوشش) فرماتے (4):دُنیا داروں کی اُن کے مُنہ پر تعریف نہ کرتے (5):اَکْثَر خاموش رہتے (6):دِینی مسائِل میں غور و فِکْر کرتے رہتے (7): بہت سادہ اور نرم مزاج تھے (8):آپ سے کوئی سُوال کرتا تو قرآن و حدیث سے اس کا