Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide
یاد فرماؤں گا* تم مجھے مجاہدہ (یعنی نیکیوں میں کوشش) سے یاد کرو! میں تمہیں ہدایت سے یاد کروں گا* اے لوگو! تم کہو: یَا رَبِّی (اے میرے رَبّ)، میں کہوں گا: عَبْدِی (اے میرے بندے) * تم کہو: میں گنہگار ہوں، میں کہوں گا: میں غَفَّار(یعنی بہت بخشنے والا) ہوں۔([1])
حدیثِ قدسی میں ہے، اللہ پاک اِرْشاد فرماتا ہے: بندہ میرا ذِکر کرتا ہے، میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ دِل میں مجھے یاد کرے، میں اسے اکیلا ہی یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجمع میں مجھے یاد کرے میں اس سے بہتر مجمع میں (یعنی فرشتوں کے سامنے) یاد کرتا ہوں۔ ([2])
اے عاشقانِ رسول! غور فرمائیے! ذِکْرُ اللہ کیسی عظیم عِبَادت ہے کہ جو اللہ پاک کا ذِکْر کرتا ہے، اللہ پاک اپنی شایانِ شان اُس کا ذِکْر فرماتا ہے۔
علّامہ قشیری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں؛ ایک مرتبہ حضرت جبریلِ امین علیہ السَّلام بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے اور عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اللہ پاک فرماتا ہے: اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! ہم نے آپ کی اُمّت کو وہ فضیلت بخشی ہے جو اس سے پہلے کسی اُمّت کو عطا نہ کی گئی۔
آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اے جبرائیل! وہ کونسی فضیلت ہے؟ عرض کیا: اللہ پاک کا یہ فرمانا: ([3])
فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُم (پارہ:2،سورۂ بقرہ:152)
تَرْجمہ :تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں