Zikr ul Allah Ke 40 Faide

Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide

سب اللہ پاک کا ذکر ہے*یونہی اللہ پاک کی نعمتوں میں غور و فکر کرنا بھی ذکر ہے*اللہ پاک نے دُنیابنائی*اس دُنیا کے عجائبات کو دیکھنا*اس کے ذریعے اللہ پاک کی شان و عظمت  اور قُدرت کے مُتَعَلِّق  غور کرنا، یہ آنکھوں کا ذکر ہے*ذِکْرُ اللہ سننا کانوں کا ذکر ہے*دل سے اللہ پاک کی یاد میں مصروف رہنا دِل  کا ذکر ہے*نعتِ مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  پڑھنا، سُننا بھی ذکر ہے*اللہ پاک کے مَحْبُوب  بندوں کی باتیں کرنا* ان کا ذِکْرِ خیر سُننا*ان کی سیرت پڑھنایہ بھی ذکر ہے۔

مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ   فرماتے ہیں: ذِکْرُ اللہ بالواسطہ بھی ہوتا ہے اور بِلاواسطہ بھی*اللہ پاک  کی ذات وصِفات کا تذکرہ یا انہیں سوچنا بِلاواسطہ ذِکْرُ اللہ ہے*اس کے مَحْبُوبوں کا مَحبَّت سے چرچا کرنا، اس کے دُشمنوں کا برائی سے ذِکْر کرنا، سب بِالواسطہ اللہ کا ذِکْر ہیں، دیکھو! سارا قرآنذِکْرُ اللہ ہے مگر اس میں کہیں تو خدا کی ذات وصفات مذکور ہیں، کہیں حُضُورِ انور  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کے اَوْصاف ومَحَامِد، کہیں کفّار کے تذکرے۔([1])  اور قرآنِ کریم کی تِلاوت بہترین ذِکْر ہے، مَعْلُوم  ہوا؛ یہ سب باتیں ذِکْر میں شامِل ہیں۔

ذِکْرُ اللہ کی عادَت کیسے بنائیں؟

ایک مرتبہ اللہ پاک کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السَّلام  نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کیا: یااللہ پاک! میں ایسی عبادت کرنا چاہتا ہوں، جس میں بہت مشقت اُٹھانی پڑے۔ اللہ پاک نے فرمایا: اے موسیٰ! بلند آواز سے میرا ذِکْر کیا کرو۔

اب حضرت موسیٰ علیہ السَّلام  تو اللہ پاک کے نبی ہیں، آپ نے جب اللہ پاک کا ذِکْر کیا


 

 



[1]...مرآۃ المناجیح، جلد:3، صفحہ:304 ملتقطاً۔