Zikr ul Allah Ke 40 Faide

Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide

اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:  اِنَّ السَّابِقِیْنَ الَّذِیْن یَسْتَہْتِرُوْنَ بِذِکْرِ اللہ آگے گزر جانے والے تو وہ ہیں جو ذِکْرُ اللہ کا بہت شوق رکھتے ہیں۔([1])

اللہ پاک ہمیں توفیق بخشے، زیادہ سے زیادہ ذِکْرُ اللہ کی سَعَادت پائیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! ہمارا اَعْمال نامہ نیکیوں سے بھرپُور ہو جائے گا۔

پیارے اسلامی بھائیو!  ذِکْرُ اللہ کے بہت فضائل ہیں، اتنے فضائل ہیں کہ ہم اندازہ نہیں لگا سکتے، چند آیاتِ کریمہ اور کچھ احادیثِ مبارَکہ سنیے! 

کثرتِ ذِکْر کا قرآنی حکم

اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ(۴۱) (پارہ:22،سورۂ احزاب:41)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اے ایمان والو! اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔

رسولِ اَکْرَم،  نورِ  مُجَسَّم  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: اللہ کا ذِکْر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہیں۔([2])

ذِکْر و درود کی ایک خصوصیت

سُبْحٰنَ اللہ!اِس آیتِ کریمہ سے مَعْلُوم  ہوا؛ ہم نے اللہ پاک کا ذِکْر کرنا ہے اور کتنا کرنا ہے...؟ کَثْرت سے کرنا ہے۔

یہ بہت سمجھنے کی بات ہے،  ذِکْر اور درود وہ 2عِبَادات ہیں جن کا اللہ پاک نے حکم دیا تو ان میں کَثْرت کا فرمایا، یہ دونوں وہ عبادات ہیں جن کا شریعت نے وقت بھی کوئی مقرَّر


 

 



[1]... جامع العلوم و الحکم، صفحہ:451۔

[2]...مسند احمد، جلد:5، صفحہ:189، حدیث:11971۔