Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide
گا۔
یعنی یہ فضیلت پہلے کسی اُمّت کو نہیں بخشی گئی کہ وہ اللہ پاک کا ذِکْر کریں تو اللہ پاک اُن کا ذِکْر فرمائے، یہ صِرْف و صِرْف اُمّتِ مسلمہ کی شان ہے کہ ہم غلامانِ مصطفےٰ ذِکْرُ اللہ کریں تو اللہ پاک ہمارا ذِکْر فرماتا ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! ویسے ذِکْرُ اللہ کے بےشُمار فضائِل ہیں، مگر ایک لمحے کے لیے ذرا غور فرمائیے! بالفرض اگر ذِکْرُ اللہ کی اور کوئی فضیلت نہ بھی ہوتی تو یہی ایک فضیلت کتنی بڑی ہے...!! جو اللہ پاک کا ذِکْر کرتا ہے، اللہ پاک اس کا ذِکْر فرماتا ہے۔
پِیر مہر علی شاہ صاحِب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ جو بلند رُتبہ عالِمِ دِین، سید زادے اور بہت بڑے ولئ کامِل ہیں، آپ ہر سال بابا فرید رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے مزار شریف پر حاضِری دیا کرتے تھے، ایک مرتبہ آپ پاکپتن تشریف لے گئے تو کسی بدعقیدہ نے پوچھ لیا: آپ تو عالِمِ دِین ہیں، آپ بھی مزاروں پر جاتے ہیں؟ پِیر مہر علی شاہ صاحِب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: میں یہاں قرآنی آیت کی تفسیر آنکھوں سے دیکھنے آتا ہوں۔ اس بدعقیدہ نے حیرانی سے پوچھا: کس آیت کی تفسیر؟ فرمایا: اللہ پاک کا فرمان ہے:
فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُم (پارہ:2،سورۂ بقرہ:152)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا۔
بابا فرید رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ وہ ہستی ہیں، جنہوں نے ساری زندگی اللہ پاک کا ذِکْر کرتے گزاری، اب میں دیکھنے آتا ہوں کہ واقعی ان کا چرچا ہو رہا ہے، وہ اللہ پاک کا ذِکْرکرتے