Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک لشکر جنگ کے لیے بھیجا، اب یہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم غزوے کے لیے گئے اور بہت جلد ہی فتح پا کر ڈھیر سارا مالِ غنیمت لے کر واپس لوٹ آئے۔
انہیں دیکھ کر ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ کہنے لگے: ہم نے ان سے جلد لوٹنے والا لشکر کوئی نہیں دیکھا، ان سے افضل غنیمت کوئی نہ دیکھی۔ اس پر رسولِ رحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان سے بھی افضل غنیمت اور جلد لوٹنے والوں کے مُتَعَلِّق نہ بتاؤں؟ وہ قوم کہ فجر کی نماز میں حاضِر ہو، پِھر وہیں بیٹھ کر اللہ پاک کا ذِکْر کرتے رہیں، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، یہ لوگ سب سے زیادہ جلد لوٹنے والے، افضل غنیمت والے ہیں۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! ذِکْرُ اللہ کے کیسے کیسے فضائل ہیں۔ کاش! ہمیں ذِکْرُ اللہ کثرت سے کرنا نصیب ہو جائے۔
ذِکْرُ اللہ کے 40 فائدے
کتابوں میں لکھا ہے: *ذِکْرُ اللہ کی برکت سے اللہ پاک راضی ہوتا ہے *ذِکْرُ اللہ شیطان کو بھگاتا، اس سے جان چھڑاتا ہے * فِکْر و غم کو دُور بھگاتا ہے * دِل میں خُوشی اور سرور بڑھاتا ہے *دِل اور بدن کو مضبوط بناتا ہے * دل کو غفلت سے بیدار کرتا ہے *دِل