Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide
نہیں فرمایا، آپ دیکھئے! * نماز فرض ہے مگر دِن میں 5مرتبہ، ہر نماز کا الگ سے وقت مقرَّر ہے *روزہ سحری سے شروع ہوتا ہے، افطار پر مکمل ہو جاتا ہے *حج صِرْف ذُو الحج شریف ہی میں ادا کیا جاتا ہے *زکوٰۃ کی بھی مقدار مقرَّر ہے مگر ذِکْر وہ عِبَادت ہے جس کا وقت بھی مقرَّر نہیں ہے، مقدار بھی مقرَّر نہیں ہے بلکہ فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ(۴۱) (پارہ:22،سورۂ احزاب:41)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اے ایمان والو! اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔
اسی طرح درود و سلام کی باری آئی تو نہ وقت کی قید، نہ مِقْدار مقرر، بلکہ فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)(پارہ:12، سورۂ احزاب:56)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان سیدہ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِیعنی پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہر حال میں ذِکْرُ اللہ کیا کرتے تھے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ!کیا شان ہے۔ اُٹھتے ذِکْر، بیٹھتے ذِکْر، چلتے ذِکْر، آتے ذِکْر، جاتے ذِکْر غرض مَحْبُوب ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی عادتِ کریمہ تھی کہ ہر حال میں اللہ پاک کا ذِکْر کیا کرتے تھے۔
کاش! ہمیں بھی یہ سعادت نصیب ہو جائے، ہم بھی بَس! ذِکْرُ اللہ کرتے ہی رہا کریں،