Zikr ul Allah Ke 40 Faide

Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide

تو مشقت تو کیا ہونی تھی، آپ کو بہت لُطْف آیا، آپ نے دوسرے دِن ذِکْر کیا تو پہلے دِن سے بھی زیادہ لذّت ملی، یونہی جُوں جُوں آپ ذِکْر کرتے رہے، لذّت میں اِضافہ ہی ہوتا رہا، آپ نے اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کی: یااللہ پاک! میں تو ایسی عِبَادت چاہتا تھا جس میں بہت مشقت اُٹھانی پڑے، تیرے ذِکْر میں تو بہت لُطْف ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا: موسیٰ! یہ تَو آپ پر میری مہربانی ہے کہ آپ کو میرے ذِکْر میں لذّت آتی ہے، ورنہ فِرْعَون کو دیکھیے! اس نے اپنا تاج و تخت، قُوّت و سلطنت سب برباد کر لیا، دریا میں غرق ہو جانا تو منظور کر لیا مگر ایک مرتبہ بھی میرا نام اپنی زبان پر لانا گوارا نہ کیا۔ ([1])

پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوم  ہوا ذِکْرُ اللہ کے فضائِل بہت ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ ذِکْرُ اللہ مَشَقّت بھری عبادت بھی ہے، اگر ہم ذِکْرُ اللہ کی عادَت اپنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے  ہمیں بہت کچھ چھوڑنا بھی پڑے گا*فُضُول گوئی سے زبان کو روکنا ہو گا*بُری صحبت بھی چھوڑنی پڑے گی*جولوگ پان ، گٹکا وغیرہ کھاتے ہیں، انہیں پان گٹکے سے چھٹکارا حاصِل کرنا پڑے گا*سوشل میڈیا کا استعمال صرف و صرف ضرورت کے لیے  کرنا پڑےگا، ایسی سب فُضُولیات کی قربانی دیں گے، تب ہی تَو ذِکْرُ اللہ کی طرف تَوَجُّہ رہے گی، پھر ہی کہیں جا کر ہمیشہ ذِکْر و فِکْر میں مشغول رہ پائیں گے۔

الحمد للہ! شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنت دَامَت بَرَکاتہمُ الْعَالِیہ  نیکیوں کا بےمثال جذبہ رکھتے ہیں،  ایک مرتبہ آپ عمامہ شریف باندھ رہے تھے، اس دوران آپ کے لبوں کو حرکت ہو رہی تھی، پوچھنے پر فرمایا: میں اللہ، اللہ پڑھ رہا ہوں، تاکہ عِمَامہ باندھنے کے ساتھ ساتھ ذِکْرُ اللہ بھی ہوتا رہے۔ شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنت دَامَت بَرَکاتہمُ الْعَالِیہ نےایک مرتبہ مدنی


 

 



[1]...سبع سنابل، صفحہ:260۔