Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide
چلتے چلتے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر یُوں ہوا کہ بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے بہت آگے گزر گئے، بعض بہت پیچھے رہ گئے۔ میں آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے قریب قریب چل رہا تھا۔ اس پر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: یَا مُعَاذُ! اَیْنَ السَّابِقُوْنَ اے مُعاذ! آگے گزرنے والے کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! بعض آگے چلے گئے ہیں، بعض پیچھے آرہے ہیں۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: یَا مُعَاذُ! اِنَّ السَّابِقِیْنَ الَّذِیْن یَسْتَہْتِرُوْنَ بِذِکْرِ اللہ یعنی اے مُعاذ! (حقیقت میں) آگے گزر جانے والے تو وہ ہیں جو ذِکْرُ اللہ کا بہت شوق رکھتے ہیں۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! کتنی سبق آموز روایت ہے۔ اس میں رسولِ رحمت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا اندازِ تربیت بھی مُلاحظہ کیجیے!
گھوڑوں پر سُوار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم گھوڑے دوڑا کر آگے گزر گئے، اب یہ بالکل عام سا معاملہ تھا، ہمارے ہاں ایسا روز ہوتا ہے، ہوتا ہی رہتا ہے، ہم عموماً گاڑی چلاتے ہیں، نہ چلائیں تو گاڑیوں پر سَفَر کرتے ہیں، سٹرک پر کتنی گاڑیاں ہوتی ہیں، ہم آرام سے جا رہے ہوتے ہیں، گاڑی پاس سے آ کر شاں کر کے تیزی سے گزر جاتی ہے۔ بات بظاہِر بڑی معمولی سی ہے مگر محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اِس بظاہِر مَعْمُول کی بات کو بھی فِکْرِ آخرت کی طرف موڑ دیا، حضرت معاذ رَضِیَ اللہ عنہ اور اُن کے وسیلے سے ہم گنہگاروں کی تربیت فرمائی کہ اے مُعَاذ...!! جیسے آج یہ لوگ گھوڑے دوڑا کر آگے گزر گئے، اب نظر بھی نہیں آ رہے، روزِ قیامت بھی ایسا ہی ہو گا، بہت سارے لوگ ہوں گے جو اتنی تیزی کے ساتھ دوسروں سے بہت آگے گزر کر جلدی جنّت میں پہنچ جائیں گے، یہ