Book Name:Maut Ka Aakhri Qasid
حضرتِ ملَکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا: اللہ پاک کی قسم! مىرے پاس بہت سارے قاصِد ہیں، مثلاً : بىمارىاں ، بالوں کی سفیدی ، بڑھاپا ، دیکھنے ، سننےمیں فرق آجانا ، جب کوئی ان میں سے کسی میں مبتلاہوکر نصىحت نہیں پکڑتااورنہ ہی توبہ کرتا ہے تو مىں اس کی روح قبض کرتے وقت اسے پکار کر کہتا ہوں : کیا میں نے تیرے پاس مختلف قاصد نہیں بھیجے؟ بس اب میں آخری قاصد ہوں میرے بعد کوئی قاصد نہیں اور میں آخری ڈرانے والا ہوں میرے بعد کوئی ڈرانے والا نہیں۔([1])
اے عاشقانِ رسول! معلوم ہوا؛ بخار اور مختلف بیماریاں بھی موت کے قاصِد ہیں۔ دُنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو کبھی کسی بیماری میں مبتلا نہ ہوا ہو، بخار، سر دَرْد وغیرہ تو معمولی بیماریاں ہیں، بہت سارے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، کسی کو شوگر ہے، کسی کو پیپاٹائٹس، کوئی جگر کے امراض میں مبتلا ہے، کسی کو گردوں(Kidney) کے مسائِل ہیں، کیا ہم ان بیماریوں سے عِبْرت لیتے ہیں؟ شاید نہیں لیتے۔ بُخار ہو، کوئی مرض لگ جائے تو چاہئے تو یہ کہ ہم عِبْرت لیں، موت کو یاد کریں، اس بیماری کو زِندگی کی آخری بیماری سمجھ کر گُنَاہوں سے پکی سچی توبہ کریں اور نیکیوں میں لگ جائیں مگر ہمارا حال اُلٹا ہے، کتنے لوگ ہیں جو معمولی سردَرْد (Minor Headache)یا بُخار وغیرہ کی وجہ سے نمازِ باجماعت کی سَعَادت سے محروم ہو جاتے ہیں بلکہ کتنے ایسے نادان بھی ہوں گے جو بیماری کو بہانہ بنا کر نمازیں ہی قضا کر ڈالتے ہوں گے۔
آہ! بیماری تو موت کا قاصِد ہے، یہ آئی تھی تاکہ ہم خوابِ غفلت سے جا گ جائیں