Book Name:Maut Ka Aakhri Qasid
شروع کئے، چنانچہ میں نے دیکھا: جب رات کا پچھلا پہر ہوا تو وہ مسجد سے نکلے، جنّت البقیع میں تشریف لائے اور قبلہ رُخ ہو کر نماز پڑھنے لگے، ساری رات نماز پڑھتے رہے، فجر کا وقت شروع ہوا تو انہوں نے دُعا مانگی، دورانِ دُعا اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے:اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ اَرْسَلْتَ اِليَّ وَ لَمْ تَاْذَنْ لِيْ فَاِنْ كُنْتَ قَدْ رَضِيْتَنِيْ فَائْذَنْ لِيْ وَ اِنْ لَّمْ تَرْضِنِيْ فَوَفَّقْنِيْ لِمَا يُرْضِيْكَیعنی:اے اللہ پاک!تُو نے میری طرف اپنا قاصد بھیجا مگر یہ نہ بتایا کہ تُو مجھ سے راضی بھی ہے یا نہیں۔ اے مالِکِ کریم! اگر تُو مجھ سے راضِی ہے تو مجھے بتا دے، اگر راضِی نہیں ہے تو اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
ابھی یہ بوڑھے میاں دُعا مانگ رہے تھے کہ اتنے میں ایک بکری یا اس جیسا کوئی جانور آیا، اُن بوڑھے میاں نے اس کا دودھ پیا، پھر اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر اسے برکت کی دُعا دی اور واپس مسجدِ نبوی شریف میں آگئے۔
حضرت عبد اللہ بن ابونُوح رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: چند راتیں میں انہیں دیکھتا رہا، اُن کا روزانہ کا یہی معمول تھا، آخر ایک دِن میں اُن بُوڑھے میاں کی خِدْمت میں حاضِر ہوا، میں نے انہیں بتایا کہ میں چند راتوں سے چھپ کر اُنہیں دیکھتا رہا ہوں، پھر میں نے پوچھا: وہ قاصِد کون ہے جو اللہ پاک نے آپ کی طرف بھیجا؟ اُن بوڑھے میاں نے فرمایا: ایک دِن میں آئینہ دیکھ رہا تھا، میں نے اپنی داڑھی میں ایک سفید بال دیکھا، بس میں جان گیا کہ یہ اللہ پاک کی طرف سے میرے پاس موت کا قاصد ہے ۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہم میں سےبہت ساروں کے بال سفید ہو گئے ہوں گے مگر