Share this link via
Personality Websites!
ہر چیز کے انجام پر نگاہ کرے اور غور کرے کہ عنقریب یہ چیز فنا کے گھاٹ اُتر جائے گی اور اس چیز کا مالِک بھی بہت جلد قبر میں دفنا دیا جائے گا *حضرت حاتِم اَصَمّ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا ہی فرمان ہے: جس کے گھر (Funeral)سے جنازہ نکلے اور وہ اس سے عِبْرت نہ لے، ایسے شخص کو عِلْم(Knowledge)، حکمت اور نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ([1])
جہنم کی گرمی کیسے برداشت کر پائیں گے
*اللہ پاک کے نبی حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام بہت خوفِ خُدا والے تھے، ایک روز آپ تنّور کے پاس سے گزرے، اس میں آگ جل رہی تھی، یہ دیکھ کر آپ کو جہنّم کی آگ یاد آگئی، آپ کا دِل گھبرا گیا، بےچینی(Restlessness) میں زمین پر گِرے اور اتنا تڑپے، قریب تھا کہ آپ کے جوڑ جُدا(Dislocate) ہو جاتے *گرمی کے دِنوں میں حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام دُھوپ میں آتے تو کہتے: اے اللہ پاک! ہم تیرے بنائے ہوئے سورج کی گرمی برداشت نہیں کر سکتے تو جہنّم کی گرمی کیسے برداشت (Tolerate)کر پائیں گے؟ ([2])
حضرتِ سائب عَبدی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک دِن حضرت صالِح مُری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ ہمارے پاس تشریف لائے، میں نے پوچھا: اے ابو بَشْر! آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟فرمایا:میں اپنےگھرسےنکلا تومختلف جگہوں سےگھومتاہوا تمہارے پاس آیا، میں جب فلاں کے گھر کے پاس سے گزرا تو اس گھر نے مجھے (زبانِ حال سے) پُکار کر کہا: اے صالح! مجھ سے نصیحت حاصل کر! مجھ میں فلاں فلاں لوگ رہتے تھے، اب وہ انتقال کر چکے ہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami