Book Name:Farishton Ke Dost
لائے، آخر کمرے میں جا کر دیکھا تو آپ کی رُوح پرواز کر چکی تھی، آپ کے روشن ماتھے پر غیبی قلم سے لکھا تھا: ہذٰا حَبِیْبُ اللہ مَاتَ فِی حُبِّ اللہ یہ اللہ کا مَحْبوب بندہ، محبتِ الٰہی میں وِصَال کر گیا۔([1])
چراغِ انجمنِ اَوْلیا غریب نواز امینِ سَطْوَتِ خیبر کُشَا غریب نواز
گُلِ حدیقۂ حسنین، نورِ چَشْمِ علی فدائے سیرتِ خیر الوریٰ غریب نواز
وضاحت:اے خواجہ غریبِ نواز رحمۃُ اللہ علیہ ! آپ اَوْلیائے کرام کی محفل کے چراغ ہیں، آپ خیبر فتح کرنے والے مولائے کائنات، مولا علی رَضِیَ اللہ عنہ کی شُجاعت کے امین ہیں، آپ اِمام حَسَن و امام حُسَین رضی اللہ عنہما کے باغ کا پھول حضرت علی رَضِیَ اللہ عنہ کی آنکھ کا تارا ہیں اور مصطفےٰ جانِ رَحْمت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی سُنّتوں کے شیدائی ہیں۔
سُبْحٰنَ اللہ! اللہ پاک کی معرفت اور کمالِ محبّتِ اِلٰہی پر اِستقامت کی اِنتہا دیکھیے! قُدْرت کا قلم آپ کی روشن پیشانی پر لکھ گیا کہ یہ وہ باکمال بندہ ہے جس نے ساری زندگی محبّتِ اِلٰہی میں گزاری، آخر محبّتِ اِلٰہی کا چراغ دِل میں لے کر ہی دُنیا سے رخصت ہو گیا۔ اللہ پاک ہمیں بھی ایسی باکمال موت عطا فرمائے۔
واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مَرے یُوں نہ فرمائیں تِرے شاہد کہ وہ فاجِر گیا
عرش پر دُھومیں مچیں وہ مومن صالِح مِلا فرش سے ماتَم اُٹھے وہ طَیِّب و طاہِر گیا([2])
وضاحت: اے پیارے اللہ پاک! تجھے تیرے پیارے مَحْبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا واسطہ! جو بھی اِس دُنیا سے جائے تو تیرے فِرشتے یہ نہ کہیں کہ دیکھو! وہ فاسِق، فاجِر گنہگار مَر گیا۔ اے