Share this link via
Personality Websites!
اور نبیِ پاک صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ پر دُرودِ پاک بھیجیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔
(مسند ابی یعلیٰ ، مسند انس بن مالک ، ۳ / ۹۵حدیث:۲۹۵۱ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ :اَفْضَلُ الْعَمَلِ اَلنِّيَّۃُ الصَّادِقَۃُ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے ۔ ([1] ) اے عاشقانِ رسول ! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخِل کر دیتی ہے ۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے ! مثلاً نیت کیجئے ! * عِلْم سیکھنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * با اَدب بیٹھوں گا * دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا * اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا * جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو ! الحمد للہ ! ہم مسلمان ہیں ، رَبِّ کریم نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائی ۔ ایمان ایک نُور ہے ، جو بندے کے دِل میں رکھا جاتا ہے ، پھر اس نُور کی روشنی ، اس کی چمک دَمک بندے کے اَعْضا (مثلاً ہاتھ ، پاؤں ، زبان ، آنکھ وغیرہ ) میں ، اُس کے اَفْعَال میں ، کردار میں ، اَخْلاق میں نظر آتی ہے ، بہت ساری ایسی چیزیں ہیں ، جو دِل میں موجود نُورِ ایمان کو مَدَّھم کر دیتی ہیں ، بندے کے دِل میں نُورِ ایمان موجود تو ہوتا ہے ، دیکھنے والے اسے مسلمان ہی کہتے ہیں ، بندہ خُود بھی اپنے آپ کو مسلمان ہی سمجھتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami