Nematon Ki Qadar Kijiye

Book Name:Nematon Ki Qadar Kijiye

کرسکا ہے اور نہ ہی آئندہ  کوئی ان کا حساب لگاسکے گا۔

پارہ 14سُوْرَۃُ النَّحْل آیت نمبر 18 میںاللہ  پاک اپنی نعمتوں کے متعلق  ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ     ( پ۱۴ ، النحل : ۱۸ )

ترجَمۂ کنز  العرفان : اور اگر تم اللہ کی نعمتيں گنو تو انہيں شمار  نہیں  کر سکو گے ۔

تفسیر صراطُ الْجِنَان میں اس آیتِ مقدسہ کے تحت لکھا ہے کہ بندے کی تخلیق میں اللہ  تعالیٰ کی جتنی نعمتیں ہیں ، جیسے تندرست بدن ، آفات سے محفوظ جسم ، صحیح آنکھیں ، عَقلِ سلیم ، ایسی سماعت جو چیزوں کو سمجھنے میں مددگار ہے ، ہاتھوں کا پکڑنا ، پاؤں کا چلنا وغیرہ اور جتنی نعمتیں بندے پر فرمائی ہیں ، جیسے بندے کی دِینی اور دُنْیوی ضروریات کی تکمیل کیلئے پیدا کی گئیں تمام چیزیں ، یہ اتنی کثیر ہیں کہ ان کا شمار ( Counting )  ممکن ہی نہیں حتّٰی کہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سی نعمت کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرے تو وہ حاصل نہ کر سکے گا تو ان نعمتوں کاکیا کہنا جنہیں تمام مخلوق مل کر بھی شمار نہیں کر سکتی ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنے کی کوشش کرو اور ا س کام میں اپنی زندگیاں صَرف کر دو تو بھی اس پر قادر نہیں ہو سکتے۔

 (  خازن ، النحل ، تحت الآیۃ : ۱۸ ، ۳ /  ۱۱۷ )  

 پیارے اسلامی بھائیو ! معلوم ہوا کہ ہم اپنی کئی زندگیاں تو ختم کر سکتے ہیں مگر لاکھ کوششوں کے باوُجُود  بھی اس پاک پروردگار  کی نعمتوں کو ہر گز ہرگز شُمار نہیں کرسکتے اور نہ ان نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کا حق ادا کرسکتے ہیں۔  لہٰذا عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح ہم امیری ، تندرستی ، خوشحالی ، جوانی اورعافیت وغیرہ ہی کو نعمتیں تصور کرتے اورصرف انہی حالتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں کے گُن گاتے اور ان نعمتوں پر اس کے شکرگزار بن کر رہتے ہیں ، اسی طرح ہمیں چاہئے کہ غُربت و اَفلاس ، بیماری ، معذوری ، بدحالی ، بڑھاپے و کمزوری اور مصائب و آلام کی حالت میں بھی لوگوں کے آگے شکوے شکایات کرنے اور اپنے دُکھڑے سُنانے کے بجائے اس کی دیگر نعمتوں کو یاد کرتے ہوئے صابر و شاکر بنیں اور ان نعمتوں پر اس کا خوب خوب شکر بجالائیں کیونکہ