Share this link via
Personality Websites!
سلیمان علیہ السلام نے تخت منگوا کر اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کروا دی تھیں۔ بہرحال تخت منگوانے کےلئے آپ نے فرمایا : اے درباریو! تم میں سے کون ہے جو ان لوگوں کے میرے پاس فرمانبردار ہوکر آنے سے پہلے بلقیس کا تخت میرے پاس لے آئے؟ یہ سُن کرایک بڑا طاقتور جن بولا : میں وہ تخت آپ کی خدمت میں آپ کے اِس مقام سے کھڑا ہونے سے پہلے حاضر کردوں گا ، میں بڑی قوت والا اور دیانت دار ہوں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا : میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں۔ اس پر آپ کے ایک وزیرآصف بن بَرخیا رضی اللہُ عنہ (جو کتاب کا علم جانتے تھے)نے عرض کی : میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔ پھر یوں ہی ہوا کہ انہوں نے اسمِ اعظم کی بَرَکت سے اُس تخت کو چند لمحوں میں دربار میں پیش کردیا۔ اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں کلماتِ شکر ادا کئے اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لئے عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : یہ میرے رب کا فضل ہے جو اُس نے اِس لئے کیا ہے کہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔
اس واقعے کو اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں پارہ 19 سورۃ النمل کی آیت نمبر20
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami