Book Name:Andheri Qabar

باب الحزن والبکاء  ،  ۴ / ۴۶۶ ،  حدیث :  ۴۱۹۵ (

اندھیری قَبْر کا دِل سے نہیں نکلتا ڈَر                    کروں گا کیا جو تُو ناراض ہوگیا یارب!

    گناہگار ہوں میں لائقِ جہنّم ہوں               کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یارب!

(وسائلِ بخشش مرمّم ، ص۷۸)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                           صَلَّی اللّٰہُ  عَلٰی مُحَمَّد

                             اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عَنْہ جب کسی کی قَبْر پر تشریف لاتے تو اس قَدَرآنسو بہاتے کہ آپ کی داڑھی مبارَک تَر ہو جاتی ۔  عرض کی گئی :   جنّت و دوزخ کا تذکِرہ کرتے وَقْت آپ نہیں روتے مگر قَبْر پر بہت روتے ہیں اِس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا : میں نے ، نبیِّ اکرم ، نورِ مجسَّم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے : آخِرت کی سب سے پہلی منزِل قَبْرہے ، اگر  قَبْروالے نے اِس سے نَجات پائی تو بعد کا مُعاملہ اس سے آسان ہے اور اگر اس سے نَجات نہ پائی تو بعد کا مُعاملہ زِیادہ سخت ہے۔ (ابن ماجہ ،  کتاب الزھد  ،  باب  ذکرالقبروالبلی  ،  ۴ / ۵۰۰ ،  حدیث :  ۴۲۶۷)

                             پیارے پیارے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ذُوالنُّورین  اورجامِعُ الْقُرْاٰن کالقب پانے والی عظیم ہستی حضرتِ سیِّدُنا عثمان ابنِ عفّان رَضِیَ اللہ عَنْہ کا خوفِ خدا! آپ عَشَرَۂ مُبَشَّرَہیعنی اُن دس(10) خوش نصیب صَحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ہیں جنہیں اللہ پاک کے  حبیب  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنی زَبانِ حقِّ ترجُمان سے خُصوصی طورپر جنتّی ہونے کی خوشخبری دی تھی ، جی ہاں!یہی وہی عظیم ہستی ہیں جن سے معصوم فِرشتے بھی حیاکرتے تھے۔ اِس  کے  باوُجود قَبْر کی