Book Name:Andheri Qabar

ایک عاشقِ رسول کی ایمان افروزحکایت لکھی ہے ، آئیے !سُنیے اورایمان تازہ کیجئے!اللہ کرے کہ ہماراشماربھی  دُرودِ پاک کی کثرت کرنے والوں میں ہو جائے۔

ایک مریض نزع کی حالت میں تھا(یعنی اُس کی روح جسم سے نکلنے ہی والی تھی) ، اس کا دوست تیمار داری کے لیے آیا اور دیکھ کر پوچھا !اے دوست ، جاں کنی(موت کے وقت سانس  اُکھڑنے) کی کڑواہٹ کا کیا حال ہے؟جواب دیا : مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی ، کیونکہ میں نے علمائے کرام سے سُن رکھا ہے کہ جو شخص حبیبِ خدا ، محمد ِمصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ پردرودِ پاک کی کثرت کرے ، اُسے اللہ پاک موت کی تلخی سے امن دیتا ہے۔

پىارے پىارے اسلامى بھائىو!یقیناً وہ  بہت خُوش نصیب ہیں جو اُٹھتے ، بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، سوتے جاگتے ، وضو بے وضو ، درود پڑھتے ہی رہتے ہیں ، اِنْ شَآءَ اللہکثرتِ درود کی سعادت حاصل کرنے کی برکت سے نزع کی سختیاں آسان ہو جائیں گی اورقبر و آخرت کی منزلیں بھی سہولت سے طے ہوں گی۔

 اے کاش! ہمارااندازبھی ایسا ہو جائے کہ ۔ ۔ ۔

بیٹھتے اُٹھتے جاگتے سوتے             ہو اِلٰہی مرا شِعار دُرُوْد

   جان نکلے تو اس طرح نکلے          تجھ پر اے غمزدوں کے یار دُرُوْد

دل میں جلوے بسے ہوئے تیرے        لب سے جاری ہو بار بار دُرُوْد

(ذوقِ نعت ، ص ، ۱۲۴ ، ۱۲۵)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                              صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد