Book Name:Andheri Qabar

جبکہ قرآنِ پاک میں ایک اور مقام پر پارہ 5 سُوْرَۃُ النِّساء کی آیت نمبر 78 میں اِرْشاد ہوتا ہے :

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍؕ-

تَرْجَمَۂ کنز الایمان : تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی اگرچہ مَضْبُوط قَلعوں میں ہو ۔

                             اس آیتِ مُبارَکہ کے تحت تَفْسیرِ نعیمی میں ہےکہ ہر شخص کی موت کا وَقْت ، موت کی جگہ مُقَرَّر ہے ، کوئی اس سے کسی تدبیر اور کسی حِیْلہ سے بچ نہیں سکتا ، تم جہاں کہیں رہو ، اپنے وَقْت پر موت تم کو ضَرور پہنچے گی اگر چہ تُم مَضْبُوط قَلعوں یا آسمان کے بُرجوں میں پہنچ جاؤ ، زِنْدگی کیلئے کتنےہی حِفَاظَت کے سامان بنا لومگرمَرو گے ضَرور۔

(تفسیرِ نعیمی ، ج۵ ، ص۲۴۲)

قبر سے متعلق بزرگوں کے معمولات

               پیارے پیارے اسلامی بھائیو! جب مریں گےتو سفرِ آخرت کا آغاز ہوگا۔ اس کی پہلی منزل قبر ہے جوکہ آخرت کے مرحلوں میں سب سے اہم مرحلہ ہے۔  ہمارے بزرگوں کامعمول تھا کہ قبر کو دیکھتے ہی روتے روتے ہچکی بندھ جاتی۔ بلکہ ہمارے بخشے بخشائے آقا ، ہمیں بخشوانے والے میٹھے میٹھے مکی مدنی مصطَفٰےصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا قبر  کے  تعلُّق سے خوفِ خدا مُلا حَظہ ہو ۔ چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا بَراء بن عازِب  فرماتے ہیں ، ہم سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے  ہَمراہ ایک جنازے میں شریک تھے تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَبْر  کے  کَنارے پر بیٹھے اور اتنا روئے کہ مِٹّی بھیگ گئی۔ پھر فرمایا : اِس  کے  لئے تیّاری کرو۔  (ابن ماجہ ،  کتاب الزھد  ،