Book Name:Deeni Tulaba Par Kharch Karna

اثر تعلیم سے کئی بڑے بڑے علما اور مفتی و مجتہد پیدا ہوئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ حضرت قاضی امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو یہ مقام و مرتبہ اس وجہ سے ملا کہ حضرت امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ان کی کفالت بھی کی اور انہیں پڑھایا بھی۔ پھر حضرت قاضی امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے آگے حضرت امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو پڑھایا۔ حضرت امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حضرت امام شافعی کے استاذ ہیں۔ حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حضرت امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو پڑھایا۔ حضرت امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو تعلیم دی۔ حضرت امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے آگے کئی شاگرد پیدا کئے اور اس طرح پھر آگے یہ سلسلہ چل نکلا اور آج تک جاری و ساری ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ سوچا جائےتو یہ سارا فیضان حضرت امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا ہے اور اس سارے ثواب کے حق دار وہ بھی ہیں اس لیے کہ انہوں نے حضرت امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو علمِ دین کی روشنی سے منوربھی فرمایا اور ان پر اپنا مال بھی خرچ کیا۔

اعلی حضرت   رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ    کا دینی  طلبہ پر خرچ کا انداز

      پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلیْہِکی عادت مبارکہ  بھی تھی کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلیْہِ علم دین حاصل کرنے والے طالبعلموں پر خوب خرچ فرماتے اور خوش ہوتے ، اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلیْہِ طلبہ پر بہت شفیق وکریم تھے ، خوشیوں کے موقعوں پر ، عید کے دنوں میں ان کے لئے نئے نئے کپڑے بنواتےاور طرح طرح کے کھانے بنوا کر کھلاتے ، عرب طلبہ کے لئے عربی کھانا ، روسی طلبہ کے لئے روسی کھانا ، بنگالی طلبہ کے لئے بنگالی کھاناالغرض جن طلبہ کو جو کھانا مرغوب(پسند ) ہوتا وہ پکوا کر اس کو کھلاتے اور خوش ہوتے۔ (سوانح اعلی حضرت ، ص۱۴۶ملخصا)   

                             اَلْحَمْدُ لِلّٰہدعوت اسلامی بھی جامعات المدینہ کے طلبہ لئے کھانے کا بہترین اہتمام کرتی ہے بلکہ طلبا  کی  ہر طرح کی سہولیات کا خیال رکھا جاتا ہے ، لہذا اس کار خیر میں بھی دعوت اسلامی کے  ساتھ بھر پور تعاون فرمایئے ۔

ہمیں کہاں خرچ کرنا چاہیے؟

       پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس واقعے میں ہمارے لیے نصیحت کے کئی مدنی پھول بھی ہیں اورکتنے پیارے اندازسے ہماری رہنمائی بھی کی جارہی ہے کہ ہم اپنا مال اللہ پاک کی راہ میں کس اندازسے خرچ کریں  تاکہ ثواب بھی ملے اور اُمّتِ مُسلمہ کی خیرخواہی بھی ہو۔

       کسی کے عالمِ دِین بننے میں اگرہمارامالی حصّہ بھی شامل ہوجائے تواس کے فوائد کثیر بھی ہیں اور بہت دیر تک رہنے والے بھی ہیں۔ بلکہ اگر اسے ثوابِِ جاریہ کہا جائے توبھی دُرست ہوگا۔ غور کیجئے! بالفرض ہمارے دیئے ہوئے مال سے ایک عالمِ دین بن گیا تو ان کے عالم بننے کا ثواب ہمیں ملےگا ، وہ تیار ہونے والے عالم جس جس کو علمِ دِین سکھائیں گے ، پڑھائیں گے ، اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ، جو ان سے سُن کر عمل کرے گا ، اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا۔ وہ آگے جس جس کو بتائے اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ، اَلْغَرَض ! اللہ نے چاہا تو پھر ہمارے لیے ثواب کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگا۔