Book Name:Deeni Tulaba Par Kharch Karna

       پھر میرے والد مجھے کہنے لگے :  اے میرے بیٹے! ہم غریب لوگ ہیں ، جبکہ امیرلوگوں کی خوراک مُرَغّن  غذائیں ہوتی ہیں ، ہم سوکھی پھیکی  روٹی کھا کر گزارا  کرتے ہیں ، ہم بہت مفلس  ہیں ، یہ باتیں کہہ کر میرے والدِ محترم نے مجھے امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی  مجالس میں جانے سے روک دیا ، ادھر امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مجھے غیر حاضر پایا تو میرے جاننے والوں سے پوچھا کہ یعقوب کیوں نہیں آرہا ؟انہوں نے بتایا کہ اسے تو اس کے والد نے روک رکھا ہے۔ امام قاضی  ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں : ادھر میر ی کیفیت یہ تھی کہ میں حضرت امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مجالس میں حاضر ہونے کے لیے بیتاب رہتا۔

       آخر کار میں ایک دن آپ کی مجلس میں جا پہنچا ، آپ  نے بڑی شفقت سے غیر حاضری کی وجہ پوچھی تو میں نے اپنے غریب اور والد کے حکم پر نہ آنے کا بتایا ، اس دن تو میں آپ کی مجلس میں احادیث سنتا رہا لیکن جب میں گھر جانے لگا تو امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے مجھے بیٹھنے  کا اشارہ کیا ، جب تمام لوگ چلے گئے تو آپ نے مجھے ایک تھیلی دی جو درہموں سے  بھری ہوئی تھی ، فرمایا :  اس سے گزارا کرو ، پھر اللہ مالک ہے ،  میں نے اسے کھولا تو ایک سو(100)درہم تھے۔ آپ نے جاتے ہوئے حکم دیا کہ میرے حلقۂ درس میں آجایا کرو ، یہ درہم ختم ہوگئے تو پھر بندوبست کردیں گے ، چنانچہ اس دن کے بعد میں باقاعدگی سے حلقۂ درس میں آنے لگا۔

کچھ  دنوں بعد آپ نے مجھے ایک اور تھیلی دی ، اس طرح  آپ وقتا فوقتاً میری امداد فرماتے اور کسی کو علم نہ ہوتا ،  ایک خاص بات یہ کہ حضرت امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   رقم تو دیتے رہے مگر کبھی مجھ سے یہ نہ پوچھا کہ کس طرح اور کہاں خرچ کرتے ہو؟ اور وہ خود ہی محسوس کر لیتے کہ روپے ختم ہونے والے ہیں ، اس کے ساتھ ہی وہ اور رقم دے دیتے۔ میں پڑھتا بھی رہا اور میرا گھر بھی چلتا رہا۔ پھر ایک وقت آیا کہ میں مالی اعتبار سے خوشحال ہوگیا۔

میں مسلسل حضرت امام ِاعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے درس میں آتا رہا ، علمی استفادہ کرتا رہا اور ایک وقت آیا کہ حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مجھے ایک طرف دنیاوی مال سے خوشحال کردیا اور دوسری طرف علم و فضل میں ممتاز بنادیا ، مجھ پر علم کے دروازےکھل گئے۔           (مناقب امام اعظم  ، جز ثانی  ، ص۲۱۱)

پیارے اسلامی بھائیو!آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ کوئی دو چار ماہ تک حضرت امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے قاضی امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی کفالت کی ہوگی ، ایسا نہیں ہے دو تین سال بھی نہیں بلکہ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے دس(10) سال تک میرااور میرے گھر والوں کا خرچ برداشت کیا ۔

 (مناقب امام اعظم  ، جز اول   ، ص۲۵۹ ملخصا)

امامِ اعظم کو ملنے والی برکتیں

            پیارے پیارے اسلامی بھائیو!امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے اس واقعے میں ہمارے لیے درس ہی درس ہے۔ حضرت امام قاضی ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  بعد میں بہت بڑے عالم ، مجتہد ، مفتی اور قاضیِ اسلام بنے۔ بلکہ ان کے فیض نظر اور پُر