Book Name:Kamsin Auliya-e-Kiraam
پىارے پىارے اسلامى بھائىو!یاد رکھئے! ہمارا پیارا بیٹا،ہمارے جگر کاٹکڑا اور ما ں باپ کی آنکھوں کا تاراہی سہی لیکن یہ مت بھولئے کہ وہ اللہ پاک کا بندہ،اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا اُمَّتی اور اسلامی مُعاشَرے کا ایک فرد ہے۔اگر ہماری تربیَت اسے اللہ پاک کی دُرُست طریقے پر عبادت،سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتیں اور اسلامی مُعاشَرے میں اس کی ذمّے داری نہ سکھا سکی تو اُسے اپنا اطاعت گزار فرزند دیکھنے کے سنہرے خواب بھی مت دیکھئے کیونکہ یہ اسلام ہی تو ہے جو ایک مسلمان کو اپنے والِدَین کی اطاعت اوران کے حُقُوق کی بجا آوَری کا درس دیتا ہے۔دیکھا یہ گیا ہے کہ جب اَولادکی تربیَت سے غفلت کے اثرات سامنے آتے ہیں تویِہی والِدَین ہر کسی کے سامنے اپنی اولاد کے بگڑنے کا رَونا روتے دکھائی دیتے ہیں،انہیں یہ نہیں بُھولنا چاہیے کہ اولاد کو اس حال تک پہنچانے میں خودہمارااپنا ہی ہاتھ ہوسکتا ہے۔ والدین کو غورکرنا چاہئے کہ ہم نے اپنے بچے کو ABC بولنا تو سکھایا مگر قراٰن پڑھنا نہ سکھایا،مغرِبی تہذیب کے طور طریقے تو سمجھائے مگررسولِ عَرَبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی سنَّتیں نہ سکھائیں، جنرل نالج(معلوماتِ عامہ)کی اَہمِّیَّت پر تواس کے سامنے گھنٹوں لیکچر دیئے مگر فرض دِینی عُلوم کے حُصُول کی رَغبت نہ دلائی،اس کے دل میں مال کی مَحَبَّت تو ڈالی مگر عشقِ رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی شَمع نہ جَلائی،اسے دُنیَوی ناکامیوں کا خوف تو دلایا مگرقَبروحَشر کے امتحان کی ناکامی کے بھیانک نتائج سے نہ ڈرایا،اسے’’ ہیلو(Hello)! ہائے! اورہاؤ آر یُو(how are you)!‘‘ کہنا تو سکھایا مگر سلام کرنے کاصحیح طریقہ نہ بتایا۔اس مقصد کے حصول کے لیے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول ایک زبردست نعمت ہے،کیونکہ بچوں کی دُرست اسلامی تربیت کرنے کے لیے والدین کا بھی تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے ، ”مدنی چینل“جہاں ہرشعبے سے وابستہ عاشقانِ رسول کی رہنمائی کررہاہے وہیں پرروزانہ شام 04:00سے06:00 بالخصوص بچوں کے لیے مدنی چینل