مسجدِ نبوی کی تعمیرات

تاریخ کے اوراق

مسجدِ نبوی کی تعمیرات

مولانا محمد آصف اقبال عطاری مدنی

ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2022

 روئے زمین پر اپنی حرمت ، عزت ، شرافت اور بُزرگی کے لحاظ سے تین مسجدیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں اور تینوں کی تعمیر حکمِ الٰہی سے حضراتِ انبیاء کرام علیہمُ السّلام نے فرمائی ، مسجدِحرام ، مسجدِ اقصی اور مسجدِ نبوی۔ تیسری مسجد کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے اللہ پاک کے آخری نبی ، محمدِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے پیارے اصحاب کے ساتھ مل کر تعمیر فرمایا۔ یہاں مسجدِ نبوی شریف کی مختلف زمانوں میں تعمیروتوسیع کے مختصراحوال بیان کئے جائیں گے۔

پہلی تعمیر : حضور رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مدینۂ منورہ تشریف لاکر پہلا عظیم کام مسجدِ نبوی کی تعمیر کا کیا ، مسجد کی جگہ سہل و سہیل نامی دویتیم بچّوں سے دس  دینار میں خریدی گئی ، قیمت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ادا کی۔ ایک روایت کے مطابق یہ جگہ بنونجار کی تھی اور قیمت کے معاملے میں انہوں نے عرض کی : ہم اس کی قیمت اللہ پاک سے لیں گے۔ ربیعُ الاول سن ایک ہجری میں حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسجد شریف تعمیر فرمائی۔ اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کا سنگِ بنیاد رکھا ، خود اینٹیں اُٹھا اُٹھا کر لاتے۔ زبانِ اقدس پر یہ الفاظِ مبارکہ جاری تھے : اَللّٰھُمَّ لَاخَیْرَ اِلَّا خَیْرُ الآخِرَۃ ، فَاغْفِرْ لِلْاَنْصَارِ وَ الْمُہَاجِرَۃ ترجمہ : اے اللہ  ! بے شک آخرت کا بدلہ ہی بہتر ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ مسجد شریف کی بنیاد پتھروں سے ، دیواریں کچی اینٹوں سے ، ستون کھجور کے تنوں سے اور چھت کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی جس کی بلندی سات یا پانچ ہاتھ تھی۔ مسجد شریف کے تین دروازے بنائے گئے ، بابِ رحمت  ( بابِ عاتکہ ) ، بابِ جبرائیل  ( بابِ آلِ عثمان )  اور ایک دروازہ اور تھا جسے تحویلِ قبلہ کے بعد بند کردیا گیا۔[1]

پہلی توسیع : پہلی تعمیر میں مسجد کی لمبائی 54 گز اور چوڑائی 63 گز تھی ، پھر جب مسجد نمازیوں پر تنگ پڑگئی تو فتحِ خبیر کے بعد سات ہجری میں حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے توسیع کا ارادہ کیا۔ مسجد سے متصل ایک انصاری کے مکان کے متعلق لوگوں سے فرمایا :  ” کون ہے جو جنّت میں مکان کےبدلے زمین کایہ ٹکڑا خرید کر مسجد میں اضافہ کردے؟ “ تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے وہ گھر 10 ہزار درہم میں خرید کر حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہاتھ فروخت کردیا۔ یہ جگہ مسجد میں شامل کرکے توسیع کردی گئی۔ اب اس کا طول وعرض ہر طرف سے سو سو ہاتھ ہوگیا۔  [2]

دوسری تعمیروتوسیع : دورِ فاروقی میں فتوحات اور مسلمانوں کی کثرت کے سبب مسجد نبوی میں مزید توسیع کی حاجت پڑی تو حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے مزید جگہ شامل کرکے نئے سرے سے مسجد تعمیر کروائی۔ علامہ سیوطی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :  ” ھَدَمَ الْمَسْجِدَ النَّبَوِیَّ ، وَزَادَفِیْہِ وَوَسَّعَہٗ وَفَرَّشَہٗ بِالْحُصْبَاء یعنی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے مسجدِ نبوی کو شہید کرواکے نئے سرے سے تعمیر کیا ، اس کے رقبے اور گنجائش میں اضافہ کیا اور سنگریزوں  ( بجری/کنکر ) سے پکا فرش بنوایا ۔ “ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے لکڑی سے بنے ستون الگ کردیئے اور ان کی جگہ کچی اینٹوں کے ستون تعمیر کروائے اور قبلہ کی طرف اضافہ کیا۔ آپ فرماتے ہیں: اگر میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ  ” مسجد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ “ تو میں ذرہ بھر اضافہ نہ کرتا۔[3]

تیسری تعمیروتوسیع : حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا چوتھا سال تھا ، لوگوں نے آپ سے تنگیِ مسجد کی شکایت کی ، آپ نے اہلِ فتوی و اصحابِ رائے صحابۂ کرام کے مشورے سے مسجدِ نبوی کو نئے سرے سے تعمیر کیا ، ربیعُ الاول 29ھ سے محرمُ الحرام 30ھ تک تعمیروتوسیع کا سلسلہ جاری رہا ، آپ نے بہت سی تبدیلیاں کیں ، دیواریں نقش ونگار والے پتھروں سے بنوائیں جن میں چونا استعمال کیا گیا ، ستون بھی نقش ونگار والے پتھروں سے لگوائے ، چھت ساج  ( ساگوان )  کی لکڑی سے بنوائی ، سفید چونے سے پلستر کروایا اور مشرق و مغرب کی طرف طاق رکھے اور شامی سمت میں اضافہ کیا۔ فاروقی اضافے سے مسجد کا طول120یا 140گز ہوگیا تھا جبکہ عثمانی اضافے سے یہ لمبائی 160 گز ہوگئی ، اس وقت چوڑائی 150گز تھی۔[4]

چوتھی تعمیروتوسیع : خلیفہ ولید بن عبدُالملک کے دور میں مدینۂ طیبہ کے گورنر حضرت عمر بن عبدُالعزیز رحمۃُ اللہ علیہ تھے ، خلیفہ کے حکم پر آپ نے مسجدِ نبوی شریف کے اِردگِردموجود مکانات خرید کر مسجد میں توسیع کی ، اب طول 200 گز اور عرض 167 گز ہوگیا۔ اس تعمیر میں بہت زیادہ اہتمام کیا گیا ، روم ومصر سے کاریگر بلوائے گئے۔ چھت ، دیواریں ، ستون سب سنہرے منقش بنائے گئے ، 12یا ایک روایت کے مطابق24من سے زیادہ سونا استعمال کیا گیا ، صرف دیوارِ کعبہ پر45ہزار دینار خرچ ہوئے۔مسجدوں میں بنائی جانے والی محراب کا آغاز اسی وقت سے ہوا اورچاروں کونوں پر چار مینار بھی بنائے گئے۔یہ تعمیر 88ہجری میں شروع ہوکر 91ہجری میں مکمل ہوئی۔[5]

پانچویں تعمیروتوسیع : 161ہجری میں عباسی خلیفہ محمد بن منصور مہدی نے مسجدِ نبوی میں اضافے کا حکم دیا ، شام کی جانب 55یا 100 گز کی توسیع کی گئی اور اس نئی تعمیر میں وہی شاندار طریقہ رکھا گیا جو اس سے پہلی تعمیروتوسیع میں تھا ، ولید کی طرح مسجد کو پتھر کے خوبصورت ٹکڑوں سے بنایا گیا ۔یہ کام 167ھ میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔  [6]

چھٹی تعمیر : علامہ سمہودی رحمۃُ اللہ علیہ کے بقول اُن کے زمانے تک خلیفہ مہدی کے بعد کسی نے مسجدِ نبوی میں توسیع نہیں کی ، البتہ بعض کے مطابق خلیفہ مامونُ الرشید نے 202ھ میں توسیع کی تھی ، یہی بات امام ابنِ قتیبہ رحمۃُ اللہ علیہ نے  ” المعارف “ میں کی ہے ، دونوں باتوں کو یوں جمع کیا جاسکتا ہے کہ مامونُ الرشید نے توسیع نہیں کی بلکہ مسجد کی بنیادیں مضبوط کیں اورکچھ تجدید کردی تھی۔[7]

ساتویں تعمیر : یکم رمضانُ المبارک 654 ہجری میں مسجدِ نبوی کے ایک خادم کی غفلت سے کسی اسٹور میں آگ لگ گئی ، دیکھتے ہی دیکھتے آگ چھت تک پہنچ گئی اور سب کچھ جل گیا جس کی اطلاع خلیفۂ وقت معتصم باللہ کو دی گئی ، وہ موسمِ حج میں سامان اور کاریگر لےکر پہنچ گئے اور 655ھ میں تعمیراتی کام شروع ہوگیا ، حجرۂ مبارکہ ، اردگرد قبلہ والی اور مشرقی دیوار سے بابِ جبریل تک چھت ڈالی گئی اور مغربی جانب ریاضُ الجنۃ اور منبر پر چھٹ ڈال دی گئی۔ 656ھ میں تاتاریوں کے غلبۂ بغداد کے سبب کام رُک گیا ، پھر 657ھ میں والیِ یمن ملکُ المظفر کے تعاون سے بابُ السلام تک کام ہوا۔658ھ میں شاہِ مصرسلطان ظاہر رکنُ الدین نے لوہا ، سکہ اور لکڑی وغیرہ تعمیراتی سامان اور 53 کاریگر بھیجے اور یوں بابُ الرحمہ اور بابُ النساء تک باقی کام مکمل ہوا۔  [8]

آٹھویں ، نویں اور دسویں تعمیرات : سلطان محمد بن قلاوون صالحی نے 705 اور706ہجری میں مشرقی ومغربی چھتیں نئے سرے سے بنوائیں اور729ھ میں قبلہ والی چھت کے ساتھ دو برآمدے بنوائے جن کی بدولت مسجدِ نبوی کی چھت وسیع ہوگئی۔ 831ھ میں ان برآمدوں میں کچھ کمزوری پیدا ہوئی تو ملک اشرف برسبائی نے اُسے درست کروایا اور اسی نے شام والی جانب کی چھت کا کچھ حصہ بنوایا۔ 853ھ میں کچھ خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے سلطان جقمق نے روضۂ انورکی مکمل چھت اور مسجد کی چھت کا کچھ حصہ نئے سرے سے تعمیر کروایا۔[9]

گیارھویں اور بارھویں تعمیرات : شاہِ مصر سلطان اشرف قایتبائی کے دورِ حکومت میں مسجدِ نبوی کی چھتیں درست کرنے کی ضرورت ہوئی تو سلطان کے حکم پر879ھ میں تعمیرات کا کام شروع ہوا ، بہت سی چھتیں اور مشرق جانب کے ستون شہید کرکے نئے سرے سے تعمیر کئے گئے۔یہ تعمیر881ھ میں مکمل ہوئی ، پھر 886ھ میں مسجد میں آگ لگنے کا دوسرا واقعہ پیش آیا ، آسمانی بجلی گری اور تقریباً پوری عمارت کو جلا گئی۔مسجد کے اکثرستون گرگئے۔اطلاع ملنے پرسلطان قایتبائی نے نئی تعمیر کے لئے مختلف اوقات میں 400کاریگر اور 372سواریاں بھیجیں نیز خشکی وبحری راستوں سے سامان بھیجتے رہے۔اب نئے گنبد ، مزید برآمدے بنائے گئے ، سنگِ مرمر کا کام کیا گیا ، جانبِ قبلہ تانبے کی جالیاں لگائی گئیں۔ چبوترے ، الماریاں ، مدرسہ ، مسافر خانہ ، حمام ، باورچی خانہ ، چکی اور لائبریری وغیرہ بنائے گئے۔ رمضان 888ھ میں تمام چھتیں مکمل ہوگئیں۔[10]

تیرھویں تعمیروتوسیع : سابقہ تعمیر کو 377سال گزرچکے تھے ، اب پھر سے تعمیرکی حاجت تھی۔1265ھ میں تُرک سلطان عبدُالمجید عثمانی نے مسجدِ نبوی کی تعمیر و توسیع کا ارادہ کیا ، تُرکوں کا عشقِ رسول مثالی ہے ، مسجدِ نبوی کی تعمیر میں اسی محبت و عشق کا بےمثال اظہار کیا گیا ، پوری اسلامی دنیا سے ماہر کاریگروں کو قسطنطینہ  ( استنبول )  کے باہر ایک نئی بستی میں جمع کیا گیا ، انہیں اپنی اولاد یا شاگردوں میں اپناعلم وہنر منتقل کرنے کے احکامات دیئے گئے ، ساتھ ساتھ بچوں کو حافظِ قراٰن بنانے کا کہا گیا۔دوسری طرف نئی کانوں سے پتھرنکالے گئے ، نئے جنگلوں سے لکڑی لی گئی ، جو چیز جس ملک کی عمدہ تھی منگوائی گئی۔ 25 برس میں مسجدِ نبوی سے باہر ایک نئی بستی میں سارا سامان جمع کیا گیا۔انوکھے ہنرمندوں کو مدینۂ منورہ منتقل کیا گیا ، تعمیرات شروع ہوئیں تو انہیں دوچیزوں کا حکم تھا۔  ( 1 ) کام کے دوران باوضو رہیں اور  ( 2 ) اس وقت میں تلاوتِ قراٰن مجید جاری رکھیں۔ ترکوں نے دورِنبوی کی پوری مسجد کی چھت گنبدوں سے بنادی ، ان میں روشن دان رکھے ، بعض دیواروں میں دروازوں جیسی بڑی بڑی کھڑکیاں بنائیں ، ستونوں کے سر سنہرے کردیئے اور ان کے نچلے حصوں پر سونے کے پَتْر چڑھادیئے ، گنبدوں کے اندرونی حصے نقش ونگار سے مزین کئے ، کاتب عبدُاللہ زہدی آفندی نے مسجد کے گنبدوں ، دیواروں ، ستونوں اور محرابوں پر بے مثال کتابت کی ، دیوارِ قبلہ پرتین سطروں میں قراٰنی آیاتِ مبارکہ اور چوتھی سطر میں حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے 200 سے زائد اسماء و صفات تحریر کئے۔مغربی سمتوں میں 1293میٹرتک توسیع

کردی۔اس تعمیر و توسیع میں تقریباً 500 کاریگروں اور مزدوروں نے حصہ لیا اور سونے کے سات لاکھ مجیدی سکے خرچ ہوئے۔[1]

چودھویں اور پندرھویں تعمیروتوسیع : 1372ھ سے 1375ھ کے درمیان ایک بڑی توسیع کی گئی۔ مشرق ، مغرب اور شمال تین اطراف کے مکانات گرا کر مسجد کے ساتھ ساتھ چاروں طرف کھلا راستہ بنادیا گیا اور یوں نئی تعمیروتوسیع کے بعد مسجد کا کل رقبہ 16326 مربع میٹر ہوگیا۔ توسیع والی جگہ ایسا پتھر لگایا گیا جو سورج کی تپش سے گرم نہیں ہوتا ، اس تعمیر کا انداز تُرکی تعمیر سے ملتاجلتا رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس تعمیر میں بھی بہت اہتمام ہوا۔ 30بحری جہازوں سے 30ہزار ٹن سے زیادہ تعمیراتی سامان برآمد کیا گیا۔ 1393ھ میں مسجد کی مغربی سمت میں 35ہزار مربع میٹر جگہ لی گئی اور وہاں نمازیوں کے لئے سائبان بنائے گئے۔

سولھویں توسیع : تاریخ کی سب سے بڑی اور اب تک کی آخری توسیع محرمُ الحرام 1406ھ کو شروع ہوئی جو1414ھ میں مکمل ہوئی۔ جدید توسیع کے بعد صرف گراؤنڈ فلور کا رقبہ 82ہزار مربع میٹر ہوگیا جبکہ نئی چھت کا کل رقبہ 67ہزار مربع میٹر ہوگیا ہے۔ چھت میں 28کھلی جگہوں پر متحرک گنبد بنائے گئے ، ہر گنبد کا وزن  80ٹن ہے۔دروازوں کی مجموعی تعداد85 ہوگئی ہے۔ 104 میٹر بلندچھ مینار تعمیر کئے گئے۔ روشنی ، بجلی ، ٹھنڈے پانی ، آگ بجھانے کا انتظام ، الیکٹرک زینے ، پارکنگ ، ائیرکنڈیشن اور مانیٹرنگ وغیرہ کا جدید ترین نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس توسیع کے بعد مسجد اور متعلقہ جگہوں میں 6 لاکھ 98 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہوگئی ہے۔ اس پورے منصوبے پر 30ہزار ملین ریال خرچ ہوئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*  فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، شعبہ تراجم المدینۃ العلمیہ   اسلامک ریسرچ سینٹر   ، کراچی



[1] بخاری ، 2/595 ، حدیث : 3906 ، بخاری ، 1/165 ، حدیث : 428 ، امتاع الاسماع ، 10/ 88 ، وفاء الوفاء ، 1/323 ، 334 ، 337

[2] ترمذی ، 5/392 ، حدیث : 3723 ، جذب القلوب ( مترجم ) ، ص125 ، وفاء الوفاء ، 1/334تا336

[3] تاریخ الخلفاء ، ص109 ، مسند احمد ، 1/414 ، رقم : 330 ، وفاء الوفاء ، 2/481

[4] صحیح بخاری ، 2/170 ، حدیث : 446 ، مسند احمد ، 10/287 ، رقم : 6139 ، وفاء الوفاء ، 2/505 ، 507 ، تایخ الخلفاء ، ص124

[5] وفاء الوفاء ، 2/513تا526 ، جذب القلوب ( مترجم ) ، ص155تا157 ، الدرۃ الثمینۃ فی اخبار المدینۃ ، ص113 ، 115

[6] وفاء الوفاء ، 2/537تا540 ، اخبار مدینۃ الرسول ، 104 ، جذب القلوب ( مترجم ) ، ص157

[7] وفاء الوفاء ، 2/540 ، جذب القلوب  ( مترجم ) ، ص157

[8] وفاء الوفاء ، 2/598تا604

[9] وفاء الوفاء ، 2/605

[10] وفاء الوفاء ، 2/605۔633تا644

[11] تذکرۃ المدینۃ المنورہ ، ص121 ، تاریخ نجدوحجاز ، ص9تا13


Share