800سال پہلے محفلِ میلاد کا عظیم الشان انداز

تاریخ کے اوراق

800سال پہلے محفلِ میلاد کا عظیم الشان انداز

*مولانا اویس یامین عطاری مدنی

ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2022

 پیارے اسلامی بھائیو ! ربیعُ الاول کی 12تاریخ کو مسلمان اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یومِ ولادت مختلف انداز سے بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں ، کوئی مکۂ مکرمہ میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت گاہ کے پاس جاکر میلاد مناتا ہےتو کوئی روضۂ رسول پر حاضری دے کر یا گنبدِ خضرا کے سائے میں میلاد مناتا ہے ،   کوئی مَولُود شریف  ( نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت کے واقعات ، سیرت ، معجزات و کمالات )  پڑھ کر میلاد مناتا ہے تو کوئی نعتِ رسول پڑھ کر  خوشی کا اظہار کرتاہے ، کوئی گلی ، محلوں اور گھروں کو سجا کر میلاد مناتا ہےتو کوئی صدقہ و خیرات اور نیاز نذر کرکے میلاد مناتا ہے۔ الغرض نیکی اور خوشی کا ہر وہ طریقہ جو شریعتِ اسلامیہ میں منع نہیں ہے اس کے ذریعے میلاد کی خوشی منائی جاسکتی ہے۔

 آیئے ! ساتویں صدی ہجری کے ایک عاشقِ رسول بادشاہ کا عید میلاد النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم منانے کا نِرالہ انداز پڑھ کر اپنے دل کو عشق و محبتِ رسول سے سرشار کرتے ہیں :

سلطان اِربِل ابوسعید مظفر  ( سالِ وفات : 630ھ )  متقی و پرہیزگار ، سخی ، دلیر و حوصلہ مند ، عقل مند ، عالم اور  عادل ہونے کے ساتھ ساتھ  خدمتِ دین اور  عشقِ رسول کی لازوال نعمت سے لبریز اور اپنے دور کے صوفیا و عُلَما کی خدمت کرنے والے بادشاہ تھے۔

 آپ نے جبلِ قاسیون کے قریب ایک مسجد  ” الجامع المظفری “  کے نام سے تعمیر فرمائی اور آپ ہی نے سب سے پہلے اجتماعی طور پر محفلِ میلاد کا انعقاد فرما کر میلاد منایا ، چنانچہ امام جلالُ الدّین سیوطی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ  ” حُسْنُ الْمَقْصَد فِی عَمَل الْمَوْلِد میں تحریر فرماتے ہیں : محفل کی صورت میں میلاد منانے کا آغاز اِربِل کے بادشاہ ابوسعید مظفر نے کیاجس کا شمار عظیمُ المرتبت بادشاہوں اور فیاض حکمرانوں میں ہوتا ہے۔[1] امام ابنِ کثیر رحمۃُ اللہ علیہ  ” اَلبِدَایَۃ وَالنِّہَایَۃ “  میں فرماتے ہیں : سلطان ابو سعید مظفر ربیعُ الاوّل کے مبارک مہینے میں عظیمُ الشّان اجتماع کا انعقاد کرکے میلاد شریف مناتے تھے ،  شیخ ابوالخطاب عمر بن دحیہ رحمۃُ اللہ علیہ نے میلادُ النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں  ” اَلتَّنْوِیر فِی مَوْلِد البَشِیر وَ النَّذیر “  کے نام سے ایک کتاب لکھی ، بادشاہ ابوسعید مظفر نے شیخ کو اس تصنیف پر ایک ہزار دینار بطورِ انعام دیئے۔ مزید فرماتے ہیں کہ بادشاہ مظفر ہر سال محفل میلادالنبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر تین لاکھ دینار خرچ کیا کرتے تھے اور مہمان خانے  ( کے مہمانوں )  پر ایک لاکھ دینار خرچ فرماتے تھے۔[2]  نامور مؤرخ امام شمس الدّین احمد بن محمد المعروف اِبنِ خَلِّکان رحمۃُ اللہ علیہ بادشاہ اِربِل مظفرُالدّین کی سخاوت ، صدقہ و خیرات اور اچھے کاموں کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ان کی محفلِ میلاد کا بیان  احاطہ سے باہر ہے ، ہر سال محفلِ میلاد میں اِربِل کے قریبی شہروں مثلاً بغداد ، موصل ، سنجار اور جزیرہ وغیرہ سے کثیر لوگ اس میں شرکت کرتے جن میں فقہا ، صوفیہ ، واعظین ، قُرّاء اور شعرا بھی شامل ہوتے اور ان کی آمد کا سلسلہ ماہِ محرم سے ماہِ ربیعُ الاول کے شروع تک جاری رہتا ، 20یا اس سے زیادہ لکڑی کے قُبے بنائے جاتے ہر قبہ چار یا پانچ درجے پر مشتمل ہوتا ، میلاد النبی کی رات قلعے میں کثیر شمعیں روشن کرواتے ، میلاد النبی کی صبح صوفیا ، فقہا ، واعظین ، قراء اور شعرا کو عمدہ لباس تحفے میں دیتے اور عوام و خواص ، فقرا ، غربا ، مساکین سب کے لئے کثیر مقدار میں بہترین مختلف اقسام کے کھانوں کا انتظام فرماتے تھے۔[3]  امام شمس الدین یوسف المعروف سِبطِ اِبنِ جوزی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میلادالنبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے موقع پر اِربِل بادشاہ مظفر کے دستر خوان پر حاضر ہونے والے ایک شخص کا بیان ہے کہ دستر خوان پر 5ہزار بھنے ہوئے بکرے ، 10ہزار مرغیاں ، 1لاکھ دودھ سے بھرے مٹی کے برتن اور 30ہزار حلوے کے تھال ہوتے تھے۔[4]

محفلِ میلاد میں بادشاہ اِربِل کے اخراجات کا اگر پاکستانی کرنسی کے مطابق حساب لگائیں تو یہ رقم کروڑوں بلکہ اربوں روپے تک جاپہنچتی ہے ، پہلے کے دور میں ایک دینار کم و بیش چوتھائی تولہ سونے کے برابر ہوتا تھا ، یوں 3لاکھ دینار 75ہزار تولہ سونے کے برابر ہوئے ۔

قارئینِ کرام ! شاہِ اربل کا میلاد النبی منانے کا یہ واقعہ کثیر علما و محدثینِ عظام نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور اس کی تعریف بھی کی ہےچنانچہ امام ابنِ کثیر ، اِبنِ خلکان ، سِبطِ اِبنِ جوزی اور امام سیوطی  کے ساتھ ساتھ امام شمس الدّین محمد بن احمد ذہبی نے  ” تاریخُ الْاِسلام * امام محمد بن یوسف الصالحی نے  ” سُبلُ الھُدیٰ وَالرَّشاد “   * علّامہ عبدالحی بن احمد المعروف اِبنُ العِماد الحنبلی نے  ” شَذَراتُ الذَّھَب فِی اَخبارِ مَن ذَھَب “   * علّامہ زرقانی نے  ” شَرحُ الزُّرقانِی عَلَی الْمَواھِب “   * علّامہ ابوذر احمد بن ابراہیم نے  ” کُنُوْزُ الذَّھَب فِی تَارِیْخ حَلب “   * علّامہ جمال الدین محمد بن سالم حموی شافعی نے  ” مُفَرِّجُ الکُروب فی اَخبارِ بَنی ایوب “  میں اس ایمان افروز واقعے کو ذکر کیا ہے۔ گیارہویں صدی ہجری کے عظیم محدث و شارحِ حدیث ملا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ میلادالنبی پر لکھے ہوئے اپنے رسالے  ”اَلْمَوْرِدُ الرَّوِی فِی الْمَوْلِد النَّبَوِی “  میں مختلف ممالک سے عُشّاق اور شاہِ اربل کی ضیافت کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : جب میں نے طاقت نہ پائی کہ لوگوں کی ظاہری دعوت و ضیافت کروں تو یہ اوراق لکھ دیئے  ( یعنی رسالہ اَلْمَوْرِدُ الرَّوِی فِی الْمَوْلِد النَّبَوِی لکھ دیا )  تاکہ یہ معنوی ضیافت ہوجائے اور زمانہ کے صفحات پر ہمیشہ رہے ، سال کے کسی مہینے سے مختص نہ ہو۔[5]

اے عاشقانِ رسول ! اسلافِ کرام اور محدثینِ عظام کے مذکورہ انداز اور فرا مین کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں بھی چاہئے کہ راہِ خدا میں خرچ کے دیگر ذرائع اپنانے کے ساتھ ساتھ اپنی حیثیت کے مطابق میلاد النبی کے موقع پر محفلِ میلاد کا  بھی اہتمام کریں اور اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھائیں۔

مَدّاحُ الحبیب مولانا جمیلُ الرّحمٰن قادری رضوی رحمۃُ اللہ علیہ اپنے نعتیہ دیوان  ” قَبالَۂ بخشش “  میں فرماتے ہیں:

بے ادب دشمنِ دِیں محفلِ میلاد ہے یہ

ان کے عشاق ہی کچھ اس کا مزہ جانتے ہیں[6]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*  فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، ماہنامہ فیضانِ مدینہ



[1] حسن المقصد فی عمل المولد ، ص41

[2] البدایۃ والنہایۃ ، 9/18 ملتقطاً

[3] وفیات الاعیان ، 3/536 ، 537 ، 538 ملخصاً

[4] مرآۃ الزمان ، 22/324 ملخصاً ، خلاصۃ الاثر ، 3/233

[5] رسائل ملا علی قاری ، المورد الروی فی المولد النبوی ، ص389

[6] قبالہ بخشش ، ص204


Share